بحریہ ٹاون کی 6میں سے 3پراپرٹیز کی نیلامی کر دی گئی، روبیش مارکی 50 کروڑ روپے میں نیلام، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
بحریہ ٹاون کی 6میں سے 3پراپرٹیز کی نیلامی کر دی گئی، روبیش مارکی 50 کروڑ روپے میں نیلام، ذرائع WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)نیب راولپنڈی میں بحریہ ٹاون کی 6کمرشل جائیدادوں کی نیلامی جاری ہے جن میں سے بحریہ ٹاون کی 3 پراپرٹیز نیلام کر دی گئی ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق نیلامی کا مقصد عدالتی پلی بارگین کی باقی رقم کی وصولی ہے ، بحریہ ٹاون کی روبیش مارکی 50 کروڑ روپے میں نیلام کی گئی ہے ، کارپوریٹ آفس ون اور ٹو کیلئے مشروط بولیاں موصول ہو گئی ہیں اور حتمی منظوری زیر غور ہے ، 3 جائیدادوں کی کوئی قابل قبول بولی نہیں آئی جن کی دوبارہ نیلامی کمی جائے گی ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام اہم ہے، چیف جسٹس کراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں جدید عدالتی نظام کا قیام اہم ہے، چیف جسٹس فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رواں ہفتے امریکا کے دورے پر جانے کا امکان جنوبی وزیرستان کے لوئر وانا بازار میں بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 14 زخمی روزویلٹ کی نجکاری کے مالیاتی مشیر کے کام چھوڑنے سے قومی خزانے کو 5 کروڑ ڈالر نقصان کا خدشہ بحریہ ٹاون راولپنڈی کے ہسپتال پر چھاپے میں ایک ارب 12کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے، عطا تارڑ کا دعویٰ وزیراعظم شہبازشریف کا مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں میں وقت کی پابندی نہ کرنے کا سخت نوٹسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاون کی کروڑ روپے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔