خیبر پختونخوا میں دریاؤں سے سونا نکالنے کے ٹھیکوں میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
نیب خیبرپختونخوا نے صوبے میں دریاؤں سے سونا نکالنے کے ٹھیکوں میں اربوں روپے کے مبینہ خوردبرد کے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔
نیب ذرائع نے کہا کہ دریاؤں سے سونا نکالنے کے لیے ٹھیکوں میں اربوں روپے کی غبن ہوئی ہے، دریائے سندھ میں نظام پور، صوابی، کوہستان اور کوہاٹ سمیت دیگر علاقوں سے سونا نکالا جاتا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق نظام پور میں سونا نکالنے کا ٹھیکہ 6 ارب کی بجائے چار ارب پر دیا گیا ہے، من پسند افراد کو کم قیمت پر ٹھیکہ دیکر سرکاری خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے، نیب نے متاثرہ ٹھیکہ دار کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
ذرائع نے کہا کہ محکمہ معدنیات سے قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ملوث افراد اور اہلکاروں کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونا نکالنے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔