UrduPoint:
2026-06-02@22:59:22 GMT
ملک میں چینی کی بلاتعطل فراہمی نہ ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اگست2025ء)ملک میں چینی کی بلا تعطل فراہمی نہ ہونے کی وجہ سامنے آگئی، حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان معاہدیکے باعث چینی ذخیرہ کی گئی۔
(جاری ہے)
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ حکومت اور شوگرملز مالکان کے درمیاں چینی کی قیمت کا فارمولا طے پایا تھا معاہدے کے تحت جولائی کیلئے چینی کی ایکس ملز قیمت ایک 165 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی۔
ہر ماہ چینی کی ایکس مل قیمت میں دو روپے فی کلو اضافے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت اگلے تین ماہ میں چینی کی ایکس مل قیمت 171 روپے فی کلو تک ہونی ہے۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں طے شدہ اضافے کے پیش نظر چینی کی سپلائی محدود ہو رہی ہے۔حکومت چھاپوں اور جرمانوں کے باجود چینی کی سپلائی اور قیمت کو معمول پر لانے میں ناکام ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چینی کی
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔