پاکستان کی مسلح افواج نے میجر طفیل محمد شہید کی 67ویں برسی پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے میجر طفیل شہید کی بہادری کو یاد کیا۔

میجر طفیل محمد نے سابق مشرقی پاکستان کے لکشمی پور سیکٹر میں دشمن کے سامنے نہایت جراتمندانہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ لڑائی جاری رکھے رہے اور مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔

ان کی غیر معمولی بہادری کی بدولت انہیں اعلیٰ فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ پاک فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر طفیل محمد اور دیگر شہدا کی قربانیاں قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے یہ سپوت ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے اور ان کی قربانیاں ملک کی سلامتی اور خودمختاری کی بنیاد ہیں۔

پاک فوج نے کہا ہے کہ وہ ہر اس بہادر سپاہی کو سلام پیش کرتی ہے جس نے ملک کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دیا، ان کی قربانیاں پاکستان میں امن، استحکام اور آزادی کے لیے لازمی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف پاک فوج مسلح افواج پاکستان میجر طفیل محمد شہید وی نیوز یوم شہادت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف پاک فوج مسلح افواج پاکستان میجر طفیل محمد شہید وی نیوز یوم شہادت میجر طفیل محمد پاک فوج کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم