بھارت نے کشمیریوں کو جائز آزادیوں سے محروم کر رکھا ہے، صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 6 نومبر 1947 کا سانحہ برصغیر کی تاریخ کا بدترین قتلِ عام تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈوگرہ فوج، آر ایس ایس اور مسلح جتھوں نے جموں میں 2 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا جبکہ نصف ملین مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔
صدر مملکت کے مطابق عالمی برادری نے اس نسل کشی کو وہ توجہ نہیں دی جس کی وہ مستحق تھی۔ کشمیر کی قربانیاں آج بھی نامکمل داستان کی یاد دہانی ہیں اور بھارت کا غیر قانونی قبضہ اہلِ کشمیر کے حقوق سلب کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی آبادیاتی تبدیلی کے خطرناک منصوبے کا حصہ ہے، بھارتی اقدامات جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو ان مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان جموں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم کشمیریوں کی انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔