لاہو میں مناواں کے علاقے میں ڈرون آن گرا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اگست 2025ء ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہو میں مناواں کے علاقے میں ڈرون آن گرا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں مناواں کے علاقے جنڈیالہ روڈ پر ڈرون گرا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ڈرون منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال کیا گیا کیوں کہ پہلے بھی اس علاقے میں اسی قسم کا ڈرون منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، پولیس نے ڈرون کو قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک قوانین کے نفاذ اور چالان کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا گیا، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے سمیت دیگر اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کردیا ہے، اس حوالے سے حالیہ آپریشنز کے دوران 300 سے زائد ڈرائیوروں کو جرمانے اور 350 سے زائد شہریوں کو رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔(جاری ہے)
آئی ٹی پی حکام کا کہنا ہے کہ چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ سید ذیشان حیدر کی قیادت میں اس اقدام کا مقصد ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے ذریعے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، ڈرونز کو لین ڈسپلن کی خلاف ورزیوں، اوور لوڈنگ، ون وہیلنگ اور ڈرائیونگ کے دیگر خطرناک رویوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ڈرون کیمروں کے ذریعے حاصل کی گئی فوٹیج کی بنیاد پر قانونی کارروائی کے ذریعے 300 سے زائد ڈرائیوروں کو پہلے ہی جرمانہ کیا جا چکا ہے، آگاہی مہم کے ایک حصے کے طور پر 350 سے زائد شہریوں کو ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی بھی دی گئی ہے اس کے علاوہ سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث متعدد گاڑیوں کو بھی مقامی تھانوں میں بند کر دیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔