دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اگست 2025ء ) متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی دنیا کی معروف فضائی کمپنی ایمریٹس نے پروازوں میں پاور بینکس کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرادیئے۔ اماراتی میڈیا کے مطابق ایئر لائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایمریٹس کی پروازوں میں کسی بھی قسم کے پاور بینک کا استعمال ممنوع ہے جس کا اطلاق یکم اکتوبر 2025ء سے ہوگا، تاہم ایمریٹس کے صارفین کو اب بھی مخصوص شرائط کے ساتھ ایک پاور بینک جہاز پر لے جانے کی اجازت ہے لیکن ہوائی جہاز کے کیبن میں پاور بینک استعمال نہیں کیے جاسکتے، نہ ہی پاور بینک سے ڈیوائسز کو چارج کرنے کے لیے اور نہ ہی ہوائی جہاز کے پاور سورس کا استعمال کرتے ہوئے پاور بینک کو چارج کیا جاسکتا ہے۔

ایمریٹس کے نئے ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ایمریٹس کے صارفین ایک پاور بینک لے سکتے ہیں جو 100 واٹ آورز سے کم ہو، جہاز پر کسی بھی ذاتی ڈیوائس کو چارج کرنے کے لیے پاور بینکوں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہوائی جہاز کی پاور سپلائی کا استعمال کرتے ہوئے پاور بینک کو چارج کرنے کی اجازت نہیں ہے، تمام پاور بینکوں پر ان کی صلاحیت کی درجہ بندی کی معلومات واضح ہونی چاہیئے، ہوائی جہاز میں اوور ہیڈ سٹویج بن میں پاور بینک نہیں رکھے جا سکتے اور اب انہیں سیٹ کی جیب میں یا اپنے سامنے والی سیٹ کے نیچے بیگ میں رکھا جاسکتا ہے، چیک ان شدہ سامان میں بھی پاور بینکوں کی اجازت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ ایک جامع حفاظتی جائزے کے بعد دبئی کا فلیگ شپ کیریئر خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور فعال مؤقف اختیار کر رہا ہے، ایمریٹس کے نئے ضوابط طیارے میں جہاز کے دوران ان کے استعمال پر پابندی لگا کر پاور بینکوں سے وابستہ خطرات کو نمایاں طور پر کم کریں گے، کیبن کے اندر قابل رسائی جگہوں پر پاور بینکوں کا ذخیرہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آگ لگنے کی شاذ و نادر صورت میں تربیت یافتہ کیبن عملہ فوری طور پر جواب دے سکتا ہے اور آگ کو بجھا سکتا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں پاور بینک پاور بینکوں کا استعمال ایمریٹس کے ہوائی جہاز کو چارج

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت