جائیداد کی خاطر 11 شوہروں کی جان لینے والی خاتون گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں 11 شوہروں کو زہر دے کر قتل کرنے والی ملزمہ خاتون کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل ہو گئی، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جب کہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، خاتون، جس کی عمر تقریباً 50 سال ہے، پر 2001 سے 2023 کے درمیان گیارہ قتل اور ایک اقدام قتل کا الزام ہے۔ رپورٹس کے مطابق، وہ اپنے شوہروں کو مختلف منشیات کھلا کر کمزور کرتی تھی اور پھر انہیں قتل کرتی تھی۔ بعض موقعوں پر وہ انہیں نشہ آور اشیا دینے کے بعد ان کا گلا بھی گھونٹ دیتی تھی۔ ہر قتل کے بعد، وہ متاثرہ کی مرضی یا مالی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب عزیز اللہ بابائی نامی بزرگ کے اہل خانہ نے 2023 میں اس کی مشکوک موت کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مزید شواہد اس وقت ملے جب ایک اور شخص نے بتایا کہ اسی خاتون نے اسے زہر آلود مشروب پلانے کی بھی کوشش کی تھی لیکن وہ فرار ہو گیا اور طلاق لے لی۔
پولیس تفتیش کے بعد خاتون کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی جہاں اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران جرائم کا اعتراف کیا تاہم عدالت میں الزامات سے انکار کردیا۔ تاہم، جب اس کے جرائم کی ویڈیو عدالت میں پیش کی گئی تو اس نے اعتراف جرم کی تصدیق کی، لیکن تفصیلات کو کم کرنے کی کوشش کی۔
اس مقدمے میں 45 سے زائد مدعی ملوث ہیں، جن میں چار مقتولین کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جنہوں نے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ ملزم کے وکیل نے دماغی صحت کے معائنے کی درخواست کی تاہم متاثرہ خاندانوں نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت آنے والے دنوں میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔