بنوں میں آپریشن، کئی مشتبہ افراد زیر حراست، دہشت گردوں کے دو سہولت کاروں کے گھر مسمار
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
بنوں میں پاک فوج اور پولیس نے خوارج کے خلاف مشترکہ آپریشن میں علاقے ہوید کا محاصرہ کرکے کئی افراد کو حراست میں لے لیا اور دو مقامی سہولت کاروں کے گھر مسمار کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بنوں کے علاقے ہوید میں خوارج کے خلاف پاک فوج اور پولیس نے مشترکہ سرچ اینڈ ٹارگٹڈ آپریشن کامیابی سے مکمل کرلیا۔
یہ آپریشن خفیہ معلومات اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا جس کا مقصد علاقے کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنا اور امن و امان کو یقینی بنانا تھا۔
پاک فوج اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا اور کئی مشتبہ افراد کو پولیس نے حراست میں لیا، آپریشن کے دوران خوارج کے دو مقامی سہولت کاروں کے گھر بھی مسمار کیے گئے۔
اہل علاقہ نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کو علاقے میں عوامی تحفظ کے لئے اہم قرار دیا اور اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ پاک فوج اور پولیس علاقے میں دیرپا امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فوج اور پولیس پولیس نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔