جنوبی وزیرستان؛ پولیس پر حملے میں 3 راہگیر جاں بحق، 3 اہلکاروں سمیت 14 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ڈی آئی خان:
جنوبی وزیرستان میں پولیس وین کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں 3 راہگیر جاں بحق ہوگئے جب کہ 3 پولیس اہل کاروں سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں شکئی اسٹینڈ کے قریب پولیس وین کے پاس زور دار دھماکا ہوا، جس کے فوری بعد نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے شدید فائرنگ بھی کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے میں 3 راہ گیروں کے جاں بحق ہونے کی پولیس نے تصدیق کردی ہے جب کہ تین پولیس اہل کاروں سمیت 14 افراد زخمی ہیں، جنہیں فوری طور پر وانا ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) طاہر شاہ کے مطابق دھماکا اور فائرنگ کے بعد علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔