ڈیجیٹل انفراسٹرکچر زرعی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کرے گا، شزا فاطمہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے کہا ہے کہ حکومت کسان برادری کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر زرعی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ’ڈیجیٹل ڈیٹا ایکسچینج‘ بنا رہے ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
وفاقی وزیر برائے شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ملک میں زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے پریسیژن فارمنگ کے فروغ پر خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسان برادری کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
شزا فاطمہ نے ’لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ملک بھر کا زرعی ڈیٹا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں مرتب کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹار لنک کو نومبر یا دسمبر میں لائسنس مل جائے گا، شزہ فاطمہ
انہوں نے بتایا کہ یہ زرعی ڈیٹا ماہرین، محققین، پالیسی سازوں اور کسانوں کو اسٹارٹ اپس شروع کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ انہیں موسم کے پیٹرنز، زرعی ترقی اور سڑکوں کے انفراسٹرکچر سے بھی آگاہی ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان زرعی پیداوار شزہ فاطمہ وزیر برائے انفارمشن ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان زرعی پیداوار شزہ فاطمہ وزیر برائے انفارمشن ٹیکنالوجی کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک