پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن کو اکیڈمک ایکسیلنس ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد:رئیس الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن کو اکیڈمک ایکسیلنس ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔
جامعہ کے علمی و تحقیقی شعبے میں مثالی خدمات کے اعتراف میں رئیس الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن کو “اکیڈمک ایکسیلنس ایوارڈ 2025″ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں قومی سطح پر تعلیم و تحقیق میں غیرمعمولی کارکردگی اور علمی معیار کے فروغ کے لیے دیا گیا۔
ایوارڈ کی تقریب صوبائی دارالحکومت لاہور (گورنر ہاؤس) میں منعقد ہوئی، جس میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدرخان ، چئیرمین HEC پاکستان ،چئیرمین HEC پنجاب سمیت اعلیٰ تعلیمی کمیشنز کے نمائندگان، جامعات کے سربراہان، محققین، اساتذہ، اور دیگر علمی و فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن نے اپنی قیادت میں جامعہ میں متعدد نئے تعلیمی پروگرامز، تحقیقاتی مراکز اور بین الاقوامی اشتراکات کا آغاز کیا، جس سے جامعہ کا علمی وقار قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید مستحکم ہوا۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن نے کہا کہ یہ اعزاز پوری جامعہ کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم علم، تحقیق اور جدید تعلیم کے ذریعے ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔”
جامعہ کے اساتذہ، طلباء اور انتظامیہ کی جانب سے بھی پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد روشن کو اس نمایاں کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔