جاپان، آبادی میں کمی کی رفتار تیز تر، کم شرح پیدائش بڑا مسئلہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
حکومت گذشتہ ایک دہائی سے شرح پیدائش بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جن میں بچوں کی پیدائش اور رہائش پر سبسڈی اور مردوں کو والد بننے کی چھٹی لینے کی ترغیب شامل ہے، مگر اس سب کے باوجود بھی خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔ اسلام ٹائمز۔ جاپان کی آبادی میں کمی کی رفتار تیز تر ہوگئی ہے، 2024ء میں ملک کی آبادی 9 لاکھ 8 ہزار سے زائد کم ہو کر 12 کروڑ رہ گئی، جو ریکارڈ کی سب سے بڑی سالانہ کمی ہے۔ کم شرح پیدائش جاپان کے لیے بڑا مسئلہ بن گیا، ماہرین کو آبادی میں کمی سے معیشت اور سماجی ڈھانچے پر طویل مدتی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جاپانی حکومت نے شرح پیدائش بڑھانے کے مختلف اقدامات پر غور شروع کر دیا۔ جاپانی وزارت داخلہ کے مطابق آبادی میں 9 لاکھ سے زائد افراد کی یہ کمی جاپانی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ ہے، جو مسلسل 16ویں سال کم ہوئی ہے، 2009ء میں 12 کروڑ 66 لاکھ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سے جاپان کی آبادی ہر سال گھٹ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق کم شرح پیدائش، بلند عمر کے شہریوں کی بڑی تعداد اور طویل مدتی معاشی جمود اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس وقت جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی بزرگوں پر مشتمل ہے، جبکہ کام کرنے والی عمر کے افراد کا تناسب محض 59 فیصد ہے، جو عالمی اوسط (65 فیصد) سے کم ہے۔ 2024ء میں صرف 6 لاکھ 87 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی، جو 1968ء کے بعد سب سے کم ہے، جبکہ اموات کی تعداد تقریباً 16 لاکھ رہی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یہ صورت حال پنشن، صحت اور دیگر سماجی نظاموں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے۔
حکومت گذشتہ ایک دہائی سے شرح پیدائش بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جن میں بچوں کی پیدائش اور رہائش پر سبسڈی اور مردوں کو والد بننے کی چھٹی لینے کی ترغیب شامل ہے، مگر اس سب کے باوجود بھی خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔ ماہرین کے مطابق جاپان میں بلند رہن سہن کے اخراجات، کم تنخواہیں، محدود جگہ اور سخت کام کے کلچر کے باعث کم لوگ شادی یا بچوں کی پرورش کا فیصلہ کرتے ہیں۔ خواتین کے لیے روایتی سماجی توقعات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومتی تخمینوں کے مطابق 2070ء تک جاپان کی آبادی 30 فیصد کم ہو جائے گی، مگر بین الاقوامی ہجرت میں اضافے سے کمی کی رفتار کچھ سست پڑ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شرح پیدائش جاپان کی کی آبادی کے مطابق بچوں کی رہی ہے
پڑھیں:
ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
ایشین گیمز 2026 کے مردوں اور خواتین کے کرکٹ مقابلوں کے ڈراز اور گروپس کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
مردوں کے ایونٹ میں پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کو عالمی رینکنگ کی بنیاد پر براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ دی گئی ہے جبکہ افغانستان، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، نیپال اور عمان ابتدائی مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔
مردوں کے ابتدائی راؤنڈ میں افغانستان، جاپان اور نیپال کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان گروپ بی کا حصہ ہوں گے۔
دونوں گروپس سے ٹاپ دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ کر پاکستان، بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا کا سامنا کریں گی۔
Bangladesh, India, Pakistan and Sri Lanka have gained direct entry into the knockouts of the Asian Games 2026 men's competition https://t.co/WCS9T5YG9C pic.twitter.com/uP7s6xroNs
— Cricinfo (@cricinfo) July 24, 2026مردوں کے مقابلے 24 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاپان کے شہر ناگویا میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔
خواتین کے ایونٹ کا آغاز 17 ستمبر سے ہوگا جہاں کوارٹر فائنلز میں بھارت کا مقابلہ جاپان، بنگلادیش کا چین، سری لنکا کا ملائیشیا جبکہ پاکستان کا سامنا تھائی لینڈ سے ہوگا۔
https://www.facebook.com/AsianGamesOCA/posts/cricket-action-is-going-to-heat-up-at-the-20th-asian-games-aichi-nagoya-2026-her/1469188031908924/خواتین کے مقابلے 22 ستمبر تک جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ 2023 کے ایشین گیمز میں بھارت نے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔