مودی سرکار پر دھاندلی الزامات اور عالمی تنہائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نے اقتدار پر قابض مودی سرکار کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔
بین الاقوامی جریدے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم مودی اپنے 11 سالہ اقتدار کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ جنگ بندی اور امریکا سے سفارتی سرد مہری مودی کے لیے امتحان بن گئی۔
رائٹرز کے مطابق کانگریس نے بی جے پی پر 2024 کے انتخابات میں جعلی ووٹروں کے ذریعے دھاندلی کا الزام لگایا، بہار کے ریاستی انتخابات میں شکست مودی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
عالمی جریدے کے مطابق امریکا پہلے ہی بھارتی درآمدات پر 50 فیصد بھاری اور بدترین محصولات عائد کر چکا ہے۔
نئی دہلی کی سیاسی تجزیہ کار آرتی جیراتھ کے مطابق مودی وہ طاقت اور جرات نہیں دکھا سکا جس کا وہ دعویٰ کرتا رہا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق، محصولات کی جنگ بہار انتخابات میں مودی کی مہم کا مرکزی نکتہ ہوگی۔
’’ووٹ وائب‘‘ ایجنسی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق مودی کا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس ریاست میں اقتدار برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہوگا۔ ووٹ وائب کے بانی امیتابھ تیواری کے مطابق ٹرمپ کے خلاف ردعمل میں مودی کا آئندہ ہفتوں میں چین اور روس کا دورہ متوقع ہے۔
ڈیٹا انٹیلیجنس فرم ’’مارننگ کنسلٹ‘‘ کے مطابق پاکستان سے اچانک جنگ بندی نے مودی کے بنیادی ہندو قوم پرست حامیوں کو بھی پریشان کر دیا۔
نئی دہلی کے ’’آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن‘‘ تھنک ٹینک کے وزٹنگ فیلو رشید قدوائی نے کہا کہ مودی کی برانڈ ویلیو میں تیزی سے کمی، بہار میں شکست مودی کی سیاسی چمک ماند کر دے گی۔
معاشی دباؤ، انتخابی دھاندلی اور سفارتی تنہائی کا امتزاج، مودی کی سیاسی ساکھ کو زبردست دھچکا ہے۔
موقع پرست مودی کا چین اور روس کا دورہ محض مودی کی عالمی ساکھ متاثر کرنے کا ذریعہ بنے گا، مودی کی ناقص پالیسیاں بھارت سمیت بی جے پی کے لیے بھی خطرے کا پیش خیمہ بن گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتخابات میں کے مطابق مودی کی
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔