Express News:
2026-07-24@13:47:12 GMT

عوام حکومت کی پالیسیوں سے مکمل مطمئن ہیں، رانا تنویر

اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر نے کہا ہے کہ عوام کی فلا ح و بہبود اولین ترجیح ہے،حکومت کی عوام دوست پالیسیوں سے عوام مکمل طور پر مطمئن ہیں, وزیر اعظم  شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان کو عظیم ریاست بنانے کیلئے پر عزم ہیں.

انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، بھارتی چیف کا بیان بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے 3 ماہ گزرنے کے بعد بھارتی ایئر چیف کی جانب سے بھارت کی جانب سے 6 پاکستانی طیارے مار گرانے کا بیان جھوٹ پر مبنی اور مضحکہ خیز ہے، عالمی سطح پر تنہائی کی وجہ سے بھارت بو کھلاہٹ میں مبتلا ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگیں جھوٹ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جاتی ہیں ،ہر آنے والا دن مودی سرکار اور بھارت کے لیے سبکی کا باعث بن رہا ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،یہ ملک قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے، کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کی فلا ح و بہبود اولین ترجیح ہے، حکومت کی عوام دوست پالیسیوں سے عوام مکمل طور پر مطمئن ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کو باوقار ریاست بنانے کیلئے قائد محمد نواز شریف اور وزیر اعظم  شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پر عزم ہے، جلد اس ملک کو عظیم معاشی قوت بنائیں گے جس کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاشبہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور اس ملک خداداد کے حصول کیلئے ہمارے آباؤ و اجداد نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کے نتیجہ میں بر صغیر کے مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے یکجا ہوئے جس کی بدولت 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر آزاد ملک کے طور پر ابھرا، اس آزادی کی ہی بدولت آج ہم پر امن فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوم آزادی تجدید عہد کا دن بھی ہے، بطور پاکستانی اس ملک کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرنا ہم سب پر اس وطن کے قیام کیلئے قربانی دینے والے شہدا کا قرض ہے، ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ اس ملک کے سچے خدمت گار بنیں گے اور محب وطن شہری کے طور پر اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔

رانا تنویر  نے کہا کہ اللہ تعالی نے اس ملک کو ہر نعمت سے نواز رکھا ہے، جو شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کو نصیب ہوں، ہمیں اس ملک کو اپنی ذات سے بڑھ کرترجیح دینی چاہئے، وطن سے محبت کا اولین تقاضا یہی ہے کہ ہم علاقائی ،نسلی اور لسانی امتیازات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک کی سالمیت وترقی کیلئے یکجا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان ہمارا قومی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہیں ،ملکی تعمیر وترقی کے لیے نوجوان نسل کو قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کو ایک رول ماڈل کے طور پر اپنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کے شہداء سمیت پاکستان کے دفاع و سلامتی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی مسلح افواج ، پولیس، ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر اداروں کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ہم تجدید عہد کرتے ہیں ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، پاکستان کے اس قیمتی تحفے کے لیے ہم ان عظیم راہنمائوں کے ہمیشہ احسان مند رہیں گے۔

کشمیر میں انسانیت سوز بھارتی مظالم کے بارے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ قبضے کے خلاف اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے مستقل جد و جہد کر رہے ہیں، پاکستان بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی عوام کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہے گا،

ہم غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آزادی کا جذبہ ہمیں درپیش چیلنجز پر قابو پانے اور ایک ایسی قوم کی تشکیل کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو انصاف، مساوات اور سب کے لیے خوشحالی کے اصولوں پر مبنی ہو، جلد ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک کو عظیم معاشی اور فلاحی ریاست بنائیں گے جس کا خواب علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رانا تنویر اس ملک کو بھارت کے کے لیے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف