بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کوجائیداد اور سرمائے سے متعلق نیب نے یقین دہانی کرادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد نے بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں اور جائیداد مالکان کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تمام قانونی حقوق، جائیدادیں اور سرمایہ کاری مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
نیب کے مطابق چند مخصوص عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی منفی خبریں دراصل ایک گہری سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد متاثرہ افراد کو خوفزدہ کر کے ان کی جائیدادیں کم قیمت پر خریدنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیب راولپنڈی نے بحریہ ٹاؤن کی کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کا آغاز کردیا
ترجمان نیب نے واضح کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشی اور مالکان خود نیب کی نظر میں متاثرین ہیں، جن کے ساتھ دھوکہ دہی اور فراڈ ہوا ہے اور بیورو ان کے حقوق کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری کارروائیاں صرف مالکان اور ان کی جائیدادوں تک محدود ہیں، اور جب تک وہ قانون کے سامنے پیش ہو کر لوٹی گئی رقوم واپس نہیں کرتے، کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
مزید پڑھیں: نیب راولپنڈی نے بحریہ ٹاؤن کی کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کا آغاز کردیا
نیب نے تمام رہائشیوں اور جائیداد مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی منفی یا شرانگیز خبر پر توجہ نہ دیں، اطمینان سے اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھیں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں فوراً نیب کو اطلاع دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحریہ ٹاؤن ترجمان جائیداد دھوکہ دہی فراڈ گہری سازش مالکانہ حقوق نیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاؤن دھوکہ دہی فراڈ گہری سازش مالکانہ حقوق بحریہ ٹاؤن کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔