نیب نے بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کو جائیداد اور سرمایہ محفوظ ہونےکی یقین دہانی کرادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام اباد نے ان تمام لوگوں کو جو کہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشی ہیں یا جنہوں نے وہاں پر جائیدادیں خرید رکھی ہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے تمام قانونی حقوق ، جائیدادیں اور سرمایہ کاری محفوظ ہیں- کچھ مخصوص عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی خبریں صرف مذکورہ لوگوں کو پریشان کرنے اور اس کی آڑ میں ان کی جائیدادوں کو کم قیمت پر خریدنے کی ایک گہری سازش ہے- مذکورہ رہائشی اور مالکان بھی نیب کی نظر میں وہ متاثرین ہیں جن کے ساتھ دھوکہ دہی اور فراڈ کیا گیا ہے اور نیب ان کے حقوق کا تحفظ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا-
بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری کاروائیاں ان کے مالکان اور ان کی جائیدادوں تک محدود ہیں۔ اور نیب نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا کہ جب تک یہ لوگ قانون کے آگے پیش ہو کر لوٹی ہوئ رقوم واپس نہیں کرتے، نیب اپنی قانونی کاروائیاں بغیر کسی دباؤ کے جاری رکھے گا۔
نیب کی طرف سے تمام رہائشی اور مالکان جائیداد کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی منفی اور شرانگیز معلومات یا خبر پر دھیان نہ دیں اور سکون کے ساتھ اپنی معمولات زندگی جاری رکھیں اور کسی بھی مشکوک عمل کے بارے میں فوری طور نیب کو آگاہ کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔