باجوڑ اور خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ، مکینوں کی نقل مکانی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ اور خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والا جرگہ ناکام ہوگیا، قبائلی عمائدین کے جرگے نے فتنہ الخوارج سے علاقہ چھوڑنے سمیت 3 مطالبات کیے تھے مگر فتنہ الخوارج نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ باجوڑ کی تحصیل ماموند کے دوعلاقوں میں تقریبا 300 دہشت گرد موجود ہیں، تحصیل ماموند کی آبادی 3 لاکھ سے زیادہ ہے، 40 ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقے چھوڑ چکے ہیں۔
وفاقی حکومت کا14اگست کوعام تعطیل کااعلان
سرکاری ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ خیبر میں بھی 350 سے زیادہ دہشت گرد موجود ہیں، خیبراور باجوڑ میں موجود دہشت گردوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ افغانی ہیں۔
دوسری طرف کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے کہا ہے کہ متاثرین کے لیے رہائش کا انتظام کرلیا گیا ہے، خار میں 107 سرکاری عمارتوں میں لوگوں کو ٹھہرانے کے نتظامات کرلیے ہیں، خار کے سپورٹس کمپلیکس میں خیمہ بستی بھی قائم کی جائے گی۔
کمشنر مالا کنڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سے زیادہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔