ماہ اگست کے 11 روز میں ریلوے کی تاریخ کے سب سے زیادہ حادثات ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
پاکستان کی ریلوے کی تاریخ میں رواں ماہ اگست کے 11 روز میں سب سے زیادہ حادثات ریکارڈ ہوئے جس کے بعد سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ریلویز کے لیے ریلو ے ٹریک وبال جان بن گیا نہ مسافر محفوظ نہ ان کا سامانم مسافر ٹرین ہو یا گڈز ٹرین پٹریوں سے اترنا تو ایسے بن گیا جیسے چھوٹی عمر کا کوئی بچہ چلتے پھرتے بار بار گر پڑے۔
پاکستان ریلویز کی تاریخ میں کبھی اتنی تعداد میں ٹرینیں پٹریوں سے نہیں اتری یا حادثات کا شکار ہوئی جتنی رواں ماہ اگست میں سامنا کرنا پڑا، اگر ٹرین پٹری سے نہ اتریں تو دہشت گردی کا نشانہ بن گئی اگست کے مہینے میں سات مرتبہ مختلف شہروں کو جانے اور آنے والی ٹرینیں ڈی ریل ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلویز کے ٹریک کی خستہ حالی انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکی ہے ریلوے ٹریک کی خستہ حالی کے باعث 15 دن میں مختلف ٹرینوں کو سات حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان میں سے ایک جعفر ایکسپریس کو ایک بار پھر دہشت گرد ی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ یکم اگست کو اسلام آباد ایکسپریس کالا شاہ کاکو کے مقام پر حادثہ پیش آیا جس میں 30 سے زائد مسافر زخمی ہوئے۔
اسی طرح 2 اگست واشنگ لائن میں پاک بزنس ایکسپریس کی ایک بوگی ڈی ریل ہوگئی، 8 اگست کو فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر مال گاڑی کی ڈیریلمنٹ سامنے آئی، 9 اگست کو چک جھمرہ میانوالی ایکسپریس ڈی ریلمنٹ کا شکار ہوئی جبکہ 10 اگست کو رحیم یار خان کے مقام پر عوام ایکسپریس حادثے کا شکار ہوئی۔
اس کے علاوہ 11 اگست کی رات موسی پاک ایکسپریس تم ٹرین کی رائیونڈ کے مقام پر 2 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
موسی پاک ایکسپریس ڈیریلمنٹ ہونے سے دو سے تین مسافر زخمی ہوئے ریلوے انتظامیہ کی ابتدائی انکوائری کے مطابق زیادہ تر حادثات ٹریک کی خستہ حالی کے باعث ہوئے جبکہ دو حادثات بریک فیل ہونے کا باعث پیش آئے۔
اسلام ایکسپریس حادثہ پر وزیر ریلوے حنیف عباسی نے نوٹس لیکر 7 دن میں انکوائری مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ریلوے ٹریک جگہ جگہ سے متاثر ہونے کے باعث ٹرینوں کے حادثات رونما ہوتے ہیں جبکہ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے اسلام آباد ایکسپریس ٹرین حادثے کی انکوائری چل رہی ہے اور ریلوے ٹریک کی آپ گریڈیشن پر کام جاری ہے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں