اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں بجلی کے صارفین اور نرخوں سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے یہ تعداد تقریباً 60 سے 70 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 1 کروڑ 83 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گرڈ سے منسلک صارفین کی مجموعی تعداد ساڑھے 3 کروڑ کے قریب ہے، اور اس وقت ملک میں تقریباً 7000 میگاواٹ اضافی بجلی دستیاب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 0 سے 100 یونٹ استعمال کرنے والے تقریباً 1 کروڑ 85 لاکھ صارفین کو 90 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے، جب کہ 100 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 70 فیصد تک رعایت دی جا رہی ہے۔

اویس لغاری نے مزید بتایا کہ پچھلے 9 ماہ میں 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اوسطاً 60 فیصد کمی کی گئی ہے۔ جون 2024 میں انڈسٹری سے 255 ارب روپے کی کراس سبسڈی وصول کی جا رہی تھی، جو اب گھٹ کر 94 ارب رہ گئی ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کا ٹیکس سمیت فی یونٹ ٹیرف 48.

7 روپے سے کم کر کے 38.4 روپے کر دیا گیا ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں تقریباً 58 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے نرخ بھی سلیب کے حساب سے 11 سے 17 فیصد تک کم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مزید بجلی خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی، اور کوشش ہے کہ کراس سبسڈی کا بوجھ گھریلو صارفین پر نہ پڑے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: استعمال کرنے والے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ