صدر زیلینسکی نے الاسکا میں امریکی اجلاس کو پیوٹن کی ’ذاتی فتح‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن نے امریکی سرزمین پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی دعوت حاصل کرکے ایک ’ذاتی فتح‘ حاصل کی ہے، اور یہ ملاقات ماسکو پر نئی پابندیوں میں مزید تاخیر کا باعث بنے گی۔
صدر زیلنسکی نے مشرقی یوکرین کے علاقے دونباس سے فوجیں واپس بلانے کے امکان کو امن معاہدے کا حصہ بنانے سے بھی انکار کر دیا، اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اور صدر پیوٹن جنگ کے خاتمے کے لیے زمین کے تبادلے پر بات چیت کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ سربراہی اجلاس جمعہ کو الاسکا میں ہونے والا ہے، جو 2021 کے بعد کسی موجودہ امریکی اور روسی صدر کے درمیان پہلا براہِ راست اجلاس ہوگا، جو ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ تقریباً ساڑھے 3 سال سے جاری روس-یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس سخت شرائط پیش کرے گا اور صدر ٹرمپ ایسا معاہدہ طے کر سکتے ہیں جس کے تحت یوکرین کو اپنی بڑی زمین روس کے حوالے کرنی پڑے۔
مزید پڑھیں:
’ہم دونباس سے دستبردار نہیں ہوں گے… اگر ہم آج دونباس سے نکل جاتے ہیں، اپنی دفاعی چوکیوں، زمینی پوزیشن اور بلند مقامات سے، تو ہم روسیوں کو واضح طور پر ایک نئے حملے کا ایک موقع فراہم کریں گے۔‘
دونباس میں مشرقی یوکرین کے علاقے لوہانسک اور ڈونیٹسک شامل ہیں، جنہیں روس اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور 2022 میں جنگ کے آغاز سے ان پر قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ جمعے کا اجلاس عملی طور پر روس پر نئی امریکی پابندیوں کو مؤخر کر دے گا، وہی پابندیاں جن کا صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر پیوٹن نے جنگ ختم نہ کی تو نافذ کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں:
’پہلی بات، وہ امریکی سرزمین پر ملاقات کرے گا، جسے میں اس کی ذاتی فتح سمجھتا ہوں، دوسری بات، وہ تنہائی سے نکل رہا ہے کیونکہ وہ امریکی سرزمین پر ملاقات کر رہا ہے، تیسری بات، اس ملاقات سے کسی حد تک پابندیاں مؤخر ہو گئی ہیں۔‘
صدر زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے اشارہ ملا ہے کہ روس ممکنہ طور پر جنگ بندی پر راضی ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الاسکا ڈونلڈ ٹرمپ صدر پیوٹن ماسکو ولادیمیر زیلینسکی یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الاسکا ڈونلڈ ٹرمپ صدر پیوٹن ماسکو ولادیمیر زیلینسکی یوکرین صدر زیلنسکی نے رہا ہے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز