شمالی کوریا کا امریکا اورجنوبی کوریا کی فوجی سرگرمیوں سے قبل طاقت کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
امریکا اور جنوبی کوریا کی بڑے پیمانے پرمشترکہ فوجی مشقوں سے قبل، شمالی کوریا نے اپنی جنگی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے توپ خانے کی مشقیں کی ہیں، سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مشقیں کورین پیپلز آرمی کے جنرل اسٹاف کے جنگ لڑنے کی صلاحیت اور پوری فوج کی جنگی تیاری کو کامل بنانے کے منصوبے کے تحت منعقد کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی مفاہمت کی کوششیں مسترد کر دیں
سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق شرکا نے اپنے اہداف تباہ کرتے ہوئے ’تیز نقل وحرکت اوراچانک کارروائیوں‘ پرمہارت حاصل کی اورٹیکٹیکل توپ خانے کی ذیلی یونٹوں کے درمیان فائرنگ کے مقابلوں کے ذریعے توپ خانے کے ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔
???????? North Korea holds large-scale artillery drills to boost combat readiness ahead of US-South Korea exercises
◼️ Drills come a week before Aug.
— Anadolu English (@anadoluagency) August 12, 2025
سرکاری طور پر ان مشقوں کو سرحد سے متصل علاقے میں فوجی مداخلت کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے کے عزم کا مظاہرہ کرنے کا موقع قرار دیا گیا۔
حکمراں جماعت کی مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین پاک جونگ چون نے اس مقابلے کی نگرانی کی۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن، جو عام طور پر توپ خانے کی مشقوں کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں، اس بار شریک نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی روس کیوں بھیجے گئے؟
یہ مشق ایسے وقت ہوئی ہے جب جنوبی کوریا اورامریکا 18 سے 28 اگست تک اپنی سالانہ موسم گرما کی مشترکہ فوجی مشق ’الچی فریڈم شیلڈ‘ شروع کرنے جا رہے ہیں، جسے جنوبی کوریا اکثر حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔
شمالی کوریا کے وزیر دفاع نو کوانگ چوئی نے پیر کو اس مشق کی مذمت کرتے ہوئے منفی نتائج کی وارننگ دی اور کہا کہ شمال کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں ڈی پی آر کے کے خودمختار حق کو مکمل طور پر استعمال کرے گا۔
مزید پڑھیں:روس میں شمالی کوریائی مزدور غلامانہ حالات کے شکار کیوں؟
امریکا اور جنوبی کوریا بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ان کی مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں، جنوبی کوریا-امریکا مشترکہ افواج کے ایک نمائندے نے کہا کہ اس بار شمالی کوریا کا ردعمل ’ماضی کے مقابلے میں نسبتاً نرم‘ ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے جنوبی کوریا کے صدرلی جے میونگ کی حکومت اقدامات کررہی ہے، گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا نے سرحد پر نصب لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے تھے جو شمالی کوریا مخالف پیغامات نشر کرتے تھے، جس کے جواب میں شمال نے بھی کچھ علاقوں میں اپنے اسپیکر ہٹانا شروع کر دیے۔
مزید پڑھیں:شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری ’آڈیو جنگ‘ کا خاتمہ، دونوں ممالک میں مذاکرات کا امکان
واضح رہے کہ ’الچی فریڈم شیلڈ‘ کی 44 فیلڈ ٹریننگ مشقوں میں سے نصف کو اگلے مہینے کے لیے مؤخرکردیا گیا ہے، فوجی حکام کے مطابق یہ فیصلہ شدید گرمی اور سیلاب سے تربیتی علاقوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے کیا گیا، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شمال کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر پاک جونگ چون توپ خانے جنوبی کوریا شمالی کوریا فیلڈ ٹریننگ مشقوں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر پاک جونگ چون توپ خانے جنوبی کوریا شمالی کوریا فیلڈ ٹریننگ مشقوں جنوبی کوریا شمالی کوریا توپ خانے کوریا کے کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز