یومِ آزادی اور ’معرکۂ حق‘ کی گرینڈ تقریب، ترکیہ و آذربائیجان کے فوجی دستوں کی شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
یومِ آزادی اور ’معرکۂ حق‘ میں تاریخی فتح کی مناسبت سے خصوصی گرینڈ تقریب آج رات 8 بجے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم، اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق جشن آزادی تقریبات، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک پلان جاری کردیا
ذرائع کے مطابق تقریب کے مہمانِ خصوصی صدرِ پاکستان ہوں گے جبکہ وزیرِاعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔
قومی و غیر ملکی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔ تقریب میں خصوصی ملی و ثقافتی پروگرام، تینوں مسلح افواج کی پریڈ، اور فضائی مظاہرہ بھی شامل ہوگا۔
اس موقع پر وزیرِاعظم ’معرکۂ حق‘ مونومنٹ کی رونمائی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق آزادی کی تقریبات میں دوست ممالک ترکیہ اور آذربائیجان کے فوجی دستے بھی حصہ لیں گے جبکہ آرمی اسکول آف میوزک خصوصی بینڈ پرفارمنس پیش کرے گا۔
یومِ آزادی اور ’معرکۂ حق‘ کی اس تقریب میں عوام کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ تقریب براہِ راست پی ٹی وی سے نشر کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آذربائیجان اسلام اباد ترکیہ معرکہ حق یوم آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ترکیہ معرکہ حق یوم ا زادی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔