اٹلی کے جنوبی جزیرے لائیمپیڈوسا کے نزدیک مہاجر کشتی کے ڈوبنے سے کم از کم 26 افراد ہلاک اور 60 زندہ بچ گئے ہیں، جبکہ کوسٹ گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ تلاش جاری رہنے کے باعث مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں۔ یہ واقعہ ان مہاجرین کے لیے تازہ سانحہ ہے جو افریقہ سے یورپ تک خطرناک میڈیٹیرینین سفر کرتے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مہاجرین لیبیا کے علاقے طرابلس سے 2 کشتیوں میں صبح سویرے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کشتی پانی لینے لگی، جس پر مہاجرین دوسری کشتی میں منتقل ہوئے، جو بعد میں طوفانی سمندری لہروں میں الٹ گئی۔

مزید پڑھیں: یمن کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 54 افریقی پناہ گزین ہلاک، درجنوں لاپتا

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس گروپ میں قریباً 92 سے 97 افراد شامل تھے۔

UNHCR کے اٹلی کے ترجمان فلیپو اونگار نے بتایا کہ سال کے آغاز سے اب تک وسطی بحیرہ روم میں افریقہ سے یورپ آنے کی کوشش میں 675 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

زندہ بچائے گئے مہاجرین کو لائیمپیڈوسا کے ریڈ کراس مرکز میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، اور ان کا کہنا تھا کہ وہ جسمانی طور پر تھکے ہوئے اور نفسیاتی طور پر شدید پریشان تھے۔

مزید پڑھیں: ویتنام میں سیاحتی کشتی طوفان کی زد میں آکر الٹ گئی، 34 افراد ہلاک

ریڈ کراس کے مطابق حادثے کے بعد 56 مرد اور 4 خواتین محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی مہاجر آمد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے مہاجر اسمگلروں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے اور غیر قانونی روانگی کو روکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی ریڈ کراس کوسٹ گارڈ مہاجر کشتی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اٹلی ریڈ کراس کوسٹ گارڈ مہاجر کشتی

پڑھیں:

اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 

روم؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے  الزام  میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق  یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔ چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔ پولیس نے تحقیقات کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب  ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4  پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہے کہ  اطلاع ہے کہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ اطالوی حکام سے رابطہ میں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد