صنم ماروی اور احمد شاہ کا تنازع ختم، 5 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھی واپس
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
کراچی: نامور گلوکارہ صنم ماروی اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ کے درمیان جاری تنازع ختم ہوگیا۔ دونوں نے غلط فہمیاں دور کرکے ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔
چند روز قبل صنم ماروی نے احمد شاہ کو 5 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ 10 اگست کو سکھر میں سندھ حکومت کے ایک پروگرام کے دوران انہیں دھکے دیے گئے، نامناسب زبان استعمال کی گئی اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔
گلوکارہ نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر معافی مانگیں ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کریں۔
احمد شاہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے نہ توہین کی اور نہ ہی کسی قسم کی دھمکیاں دیں۔ تاہم اب صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ اور لکھاری نور الہدیٰ شاہ کی مداخلت سے دونوں شخصیات کے درمیان صلح ہوگئی۔
وزیر ثقافت نے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں احمد شاہ نے صنم ماروی کو چھوٹی بہن اور بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان برسوں پرانے تعلقات ہیں اور محض غلط فہمی کی بنیاد پر تنازع سامنے آیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے اسٹاف کے نامناسب رویے سے گلوکارہ کو تکلیف پہنچی، تاہم اب تمام اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔
صنم ماروی نے بھی سندھی زبان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی روایات کے مطابق انہوں نے اپنے تمام الزامات واپس لے لیے ہیں۔ انہوں نے صلح میں اہم کردار ادا کرنے پر سید ذوالفقار علی شاہ اور نور الہدیٰ شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ سندھ کے عوام کی شکر گزار ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: صنم ماروی احمد شاہ انہوں نے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔