وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود وزیراعلیٰ  خیبر پختونخوا کو پارٹی کے بانی رہنما سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

درخواست میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارٹی کے بانی رہنما سے ملاقات نہ صرف جماعتی معاملات پر مشاورت کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومتی وزراء کے فیصلوں میں بھی ان کی رہنمائی درکار ہے۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ جماعتی اور سیاسی امور پر مشاورت ہو سکے۔

یاد رہے کہ جون کے اواخر میں بھی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر عائد پابندی کو چیلنج کیا گیا تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ہفتہ وار ملاقات کروائی جائے، کیونکہ ملاقات کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے اور 19 کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے‘ وزیراعلیٰ گنڈا پور سپریم کورٹ پہنچ گئے، جسٹس منصور علی شاہ نے معذرت کرلی

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ بجٹ مشاورت کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے اور سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ موجودہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کروایا جائے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ ملاقات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت کی درخواست تھی۔ تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ سننے سے معذرت کرلی تھی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں اس وقت پیش ہوئے، جب وہاں کسی دوسرے کیس کی سماعت ہورہی تھی۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل بھی تھے۔

علی امین گنڈاپور کا مؤقف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے روسٹرم پر آ کر مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس وقت بجٹ منظوری کا عمل جاری ہے اور ہماری بجٹ کمیٹی کو پارٹی سربراہ سے ملاقات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اہم فیصلے کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے  عدلیہ کو ہتھکڑیاں لگ چکی ہیں، علی امین گنڈا پور

انہوں نے کہا ’ہماری بارہا درخواستوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔
عمران خان نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو باقاعدہ خط لکھا تھا، جس پر چیف جسٹس نے اچھے ریمارکس دیے تھے، مگر تاحال کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔

جسٹس منصور علی شاہ کا مؤقف

جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ سننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ’یہ جوڈیشل سائیڈ کا معاملہ نہیں، آپ نے غلط دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ رجسٹرار سپریم کورٹ یا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے رجوع کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، یہی آپ کے لیے مناسب فورم ہے اور اس سے آپ کا وقت بھی بچے گا۔

ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور اس کے بعد رجسٹرار آفس گئے تو پتہ چلا کہ رجسٹرار بیرونِ ملک ہیں، جس کے بعد وہ ایڈیشنل رجسٹرار آفس پہنچ گئے۔ جنہوں نے اُن کی درخواست وصول کر کے کہا کہ وہ فائل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے چیئرمین چیف جسٹس کے سامنے رکھیں گے۔

لطیف کھوسہ کی استدعا

اس موقع پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ ایک ارجنٹ معاملہ ہے، ہماری گزارش ہے کہ اسے فوری سنا جائے۔ ہم عدالت کی آشیرباد چاہتے ہیں تاکہ چیف جسٹس کو یہ معاملہ بھجوا سکیں۔

تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے واضح کیا کہ ہم اس حوالے سے عدالتی کارروائی نہیں کر سکتے، بہتر ہے کہ یہ درخواست براہ راست چیف جسٹس یا رجسٹرار کے روبرو پیش کی جائے۔

عدلیہ کو ہتھکڑیاں لگ چکی ہیں، علی امین گنڈا پور

بعدازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:مائنس عمران خان ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگا، علی امین گنڈاپور کا علیمہ خان کے بیان پر ردعمل

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سازش ہماری خلاف ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی کی ہدایت تھی کہ ہم سپریم کورٹ آئیں اور انہی کی ہدایت پر آج سپریم کورٹ آیا ہوں۔

علی امین گنڈا پور کے مطابق کمرہ عدالت میں جسٹس منصور علی شاہ موجود تھے جنہوں نے انہیں بولنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی کے خط کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو ہتھکڑیاں لگا دی گئی ہیں۔ بطور پاکستانی ہم نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ جب سپریم کورٹ آیا تو یہی سوچا تھا کہ چیف جسٹس سے ڈسکس کروں گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سپریم کورٹ آف پاکستان عمران خان سے ملاقات کی درخواست وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ا ف پاکستان عمران خان سے ملاقات کی درخواست وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پختونخوا علی امین گنڈا جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان سے ملاقات علی امین گنڈا پور علی امین گنڈاپور ملاقات کی اجازت مؤقف اختیار کیا خیبر پختونخوا سے ملاقات کی درخواست میں سپریم کورٹ وزیر اعلی استدعا کی چیف جسٹس انہوں نے کیا گیا تھا کہ یہ بھی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم