ٹرمپ کا چین کے دورے کا عندیہ، ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دے دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس سال یا اس کے فوراً بعد چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان معاشی تعلقات بہتر ہوئے ہیں، تاہم اگر بیجنگ نے وعدے پورے نہ کیے تو وہ دوبارہ بھاری ٹیکس (ٹیرِف) لگانے کیلئے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کہا: "ہماری چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے۔ لیکن اگر انہوں نے میگنیٹس نہ دیے تو ہمیں 200 فیصد ٹیرف لگانا پڑے گا۔"
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا دیے تھے جس سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی۔ بعد ازاں اپریل میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان عارضی معاہدہ ہوا، جس کے تحت امریکہ نے ٹیکس 30 فیصد جبکہ چین نے 10 فیصد کر دیے۔
ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے بھی دوبارہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میری ان کے ساتھ بہت اچھی سمجھ بوجھ ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس سال ملاقات ہو۔" تاہم ماہرین کے مطابق ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران تین ملاقاتوں کے باوجود کوئی مستقل معاہدہ سامنے نہ آ سکا۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یوکرین کی سلامتی کا ساتھ دے گا، لیکن حتمی تفصیلات پر ابھی کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کم کرنے پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔