جہیز کی رقم برآمدگی کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ لارجر بینچ کو بھجوا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
سپریم کورٹ میں جہیز کی رقم برآمدگی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پہلے 2 فیصلے موجود ہیں اور سوال یہ ہے کہ کیا 3 رکنی بینچ اس معاملے کو سن سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں:قتل کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے راضی نامے کی تصدیق سے سپریم کورٹ کا انکار
عدالتی معاون حافظ عرفات نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینا ضروری ہے کیونکہ نکاح نامے کے پیراگراف نمبر 16 پر قانونی اختلاف موجود ہے۔
ان کے مطابق پیراگراف نمبر 13 حق مہر کے بارے میں ہے جبکہ پیراگراف نمبر 16 خاوند کی وراثت میں سے اہلیہ کے حصے سے متعلق ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ طلاق کی صورت میں اہلیہ کو حق مہر اور خاوند کی وراثت میں سے حصہ، دونوں ملیں گے۔
حافظ عرفات نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر 2022 میں جسٹس منصور علی شاہ اور 2024 میں عدالت کے فیصلے موجود ہیں، اس لیے اب بڑے بینچ کی رائے ناگزیر ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس کو مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ کو بھجوا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جہیز برآمدگی سپریم کورٹ لاجر بینچ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جہیز برا مدگی سپریم کورٹ لاجر بینچ سپریم کورٹ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔