سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
گلگت بلتستان کے ایک شہری کی جانب سے سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کی متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔
گلگت کے ضلع غذر کے رہائشی محمد قیوم خاندرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور قومی لیڈر کی زندگی کو اڈیالہ جیل میں سنگین خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج عمران خان اڈیالہ جیل میں میرے پاس بند ہے، مریم نواز
’بانی تحریک انصاف ملک کی 90 فیصد آبادی کے حمایتی ہیں، اس لیے ان کی زندگی کو لاحق خطرات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قومی مفاہمت، ملکی خودمختاری، استحکام اور امن سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔‘
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی تحریک انصاف کی اڈیالہ جیل سے محفوظ مقام پر فوری منتقلی کے لیے جلد سماعت مقرر کی جائے اور اس معاملے کو قومی اہمیت کے تناظر میں فل کورٹ کے سامنے سنا جائے۔
مزید پڑھیں: عمران خان اڈیالہ جیل میں موجود، جب تک بشریٰ بی بی کی ان تک رسائی نہیں وہ محفوظ ہیں، فیصل واوڈا
درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ یہ معاملہ بنیادی حقوق، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور قومی سلامتی سے متعلق ہے۔
’لہٰذا چیف جسٹس اور سینیئر ججز سے استدعا ہے کہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل انسانی حقوق بانی پی ٹی آئی سپریم کورٹ عمران خان گلگت بلتستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ گلگت بلتستان اڈیالہ جیل
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔