ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کو بھی سنجیدگی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار سب کے رویے پر ہے۔ ان کے مطابق اگر غیر سنجیدہ اقدامات کیے گئے تو مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ ایران نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کا اقدام غیر قانونی اور غیر معقول ہے۔
تینوں یورپی ممالک نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے جوہری معاہدہ 2015 کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔