کالا باغ ڈیم ریاست کیلیے ضروری ہے، جن کے تحفظات ہیں اُن سے بات کی جائے، وزیراعلیٰ گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ریاست کیلیے ضروری ہے اور اگر اس پر کسی کے تحفظات ہیں تو انہیں دور کیا جائے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے بارشوں اور سیلاب سے اتنی زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
انہوں نے کاہ کہ ہم کچھ ڈیمز کے نام لینے سے ڈرتے ہیں, کالاباغ ڈیم ریاست کے لیے ضروری ہے اور اگر اس حوالے سے کسی کے تحفظات ہیں تو بات کر کے انہیں دور کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اپنا حصہ دینے کے لیے تیار ہیں دیگر صوبوں کو اس میں حصہ ڈالنا چاہیے تاکہ ڈیم کی تعمیر ممکن ہو سکے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم نے ڈیم بنانے میں تاخیر کی اس وجہ سے اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے اور اب صوبائی حکومت اپنے طور پر ڈیم بنارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قدرتی آفات کے حوالے سے کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ڈیم بنائے گئے، ہم نے گزشتہ سال 6 ڈیم مکمل کیے، ہیںل، گومل زام ڈیم بن گیا ہے جس کی وجہ سے نقصانات کم ہوئے اور اب ہم مختلف اضلاع میں ڈیم بنارہے ہیں تاکہ مسائل کم ہوں،
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم پشاورکے تحفظ کے لیے جبہ ڈیم بنارہے ہیں، بڈھنی پشاورسے سیلاب سے بچائو کے لیے حفاظتی دیواربنائی جارہی ہے۔
علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ بونیر میں کلائوڈبرسٹ ہوا ہے جس کادرختوں سے کوئی تعلق نہیں، کلائوڈبرسٹ موسم میں حدت کی وجہ سے ہورہے ہیں جوکہیں بھی ہوسکتے ہیں۔ پتھروں کوسیلاب کے ساتھ روکنے کے لیے سوئزرلینڈکی طرز پرنیٹ لگائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔