اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 1000 پوائنٹس سے زائد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار ایک ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
منگل کی دوپہر 1 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 150,982.62 پوائنٹس کی سطح پر تھا، جو کہ 1,011.50 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
کاروباری دن میں آٹوموبائل، کمرشل بینک، آئل اینڈ ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سی، فارماسیوٹیکل، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم، 100 انڈیکس پہلی بار 150,000 کی سطح عبور کرگیا
حبکو، اے آر ایل، این آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، میبل، این بی پی اور یو بی ایل جیسے بڑے اسٹاکس سبز نشانات میں ٹریڈ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق معاشی محاذ پر بہتری اور توقع سے زیادہ بہتر کارپوریٹ نتائج نے مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا کیا جبکہ مزید کارپوریٹ منافع کی توقعات بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئے مہینے کا شاندار آغاز سے کیا یہی وجہ ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,353 پوائنٹس یعنی 0.
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں پر، تیزی کا طوفان مسلسل جاری
بین الاقوامی سطح پر بھی ایشیائی مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی، امریکی ڈالر 5 ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا جبکہ سونا ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، سرمایہ کار اس ہفتے کے معاشی اعداد و شمار، بالخصوص جمعہ کو آنے والی امریکی لیبر رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔
مارکیٹ میں توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو اس ماہ شرح سود میں کمی کرے گا، اور 25 بیسس پوائنٹس کٹوتی کے امکانات 89 فیصد تک ہیں، تاہم یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا امریکی سینٹرل بینک بڑا فیصلہ لے سکتا ہے کہ نہیں۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس منگل کو 0.2 فیصد بڑھا اسی طرح جاپان کا نکی 0.39 فیصد اوپر گیا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس معمولی کمی کے بعد بھی گزشتہ روز کی مضبوط ریلی کے اثرات میں رہا۔ چین کی مارکیٹوں میں بھی مسلسل تیزی رہی اور سی ایس آئی 300 انڈیکس 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آٹوموبائل امریکی لیبر رپورٹ ایشیائی مارکیٹس بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج سونا کمرشل بینک کے ایس سی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آٹوموبائل امریکی لیبر رپورٹ ایشیائی مارکیٹس پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس سی
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن