شہباز شریف کی چینی وزیراعظم سے ملاقات؛ مشترکہ منصوبوں پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
شہباز شریف کی چینی وزیراعظم سے ملاقات؛ مشترکہ منصوبوں پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
بیجنگ:وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد چینی وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کے اعزاز میں ایک پروقار ظہرانہ بھی دیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 2 ستمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی روشنی میں پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر مشترکہ ایکشن پلان (2024-2029) پر دستخط کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج چین کی بھرپور حمایت کے باعث ممکن ہو سکے ہیں۔ انہوں نے جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز متعارف کرانے کے پاکستان کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔
اقتصادی تعاون کے حوالے سے وزیراعظم نے گزشتہ دہائی میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور اس کے اہم منصوبے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی شاندار شراکت کو اجاگر کیا اور قراقرم ہائی وے، ریلوے لائن-1 کی بحالی اور گوادر پورٹ کی مکمل آپریشنلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے فیز 2 کو اپ گریڈ کرنے اور اس کے تحت 5 نئے کوریڈورز پر مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر بیجنگ میں ہونے والی بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کا ذکر کیا، جس میں 300 سے زائد پاکستانی اور 500 چینی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زراعت، کان کنی، معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعتی شعبے اور آئی ٹی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سمیت کثیرالجہتی اقدامات کی پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ شایان شان طریقے سے منائی جائے گی۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سی پیک فیز 2، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ جنگ میں 21 ہزار فلسطینی بچے معذور ہوگئے، اقوام متحدہ کا لرزہ خیز انکشا اسلام آباد ہائیکورٹ کا( سی /16)متاثرین کے لیے بڑا اقدام ،، سی ڈی اے حکام سے جواب طلب ،، تفصیلات و دستاویز سب نیوز... پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کا پرمٹ ریکارڈ 10 کروڑ روپے میں نیلام نائیجیریا میں کشتی حادثہ، 60 افراد ہلاک، درجنوں لاپتا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اسلام آباد کچہری میں نوسربازی کا واقعہ، عدالت میں جعلی اشتہاری ملزم پیش کردیا گیا بھارت کا دریائے ستلج میں سیلاب پر ایک بار پھر پاکستان سے سفارتی سطح پر رابطہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔