راحت فتح علی کا بنگالی میں ڈیبیو مداحوں کو بھا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پاکستان اور بنگلہ دیش کے ثقافتی تعلقات کو ایک نئی سنگیت بھری جہت ملی ہے، عالمی شہرت یافتہ گلوکار استاد راحت فتح علی خان نے پہلی بار بنگالی گانا گایا ہے جسے مداح بے حد پسند کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راحت فتح علی خان کی بنگلہ دیش میں شاندار پرفارمنس، سامعین جھوم اٹھے
راحت نے معروف بنگالی گلوکارہ روبایات جہاں کے ساتھ ڈوئٹ تُمی امر پریم پیاشا ریکارڈ کیا ہے۔ اس کی کمپوزیشن اور ارینجمنٹ میوزک ڈائریکٹر راجہ کاشف نے کی، جنہوں نے راحت کو بنگالی میں گانے کا چیلنج قبول کرنے کی ترغیب دی۔
مداحوں نے راحت کی درست تلفظ اور جذباتی اندازِ گائیکی کو بے حد سراہا ہے۔ خاص طور پر لائن ’الے تمی مونیر گو بیرے، جانبے تومار آمی کے‘ پر سامعین نے کہا کہ راحت ایک ماہر بنگالی گلوکار کی طرح لگ رہے تھے۔
راجہ کاشف، جنہوں نے اس سے قبل آشا بھوسلے اور عدنان سمی جیسے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ہے، نے کہا کہ راحت کی قیمتی آواز نے ایک ناقابلِ فراموش تاثر چھوڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راحت فتح علی خان کا باکمال بیٹا برطانیہ میں پہلی پرفارمس کے لیے تیار
روبایات جہاں نے انکشاف کیا کہ راحت نے بنگالی بول اردو رسم الخط میں لکھ کر اپنی ادائیگی بہتر بنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ استاد راحت کے ساتھ گانا ایک اعزاز تھا۔
یہ ڈوئٹ برصغیر کی موسیقی میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو پاکستان کی قوالی کی روایت اور بنگلہ دیش کی نغمگی کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگالی گانا بنگلہ دیش پاکستان راحت فتح علی سنگیت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستان راحت فتح علی سنگیت راحت فتح علی بنگلہ دیش
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔