ملتان؛ جلالپور پیروالا میں مقامی بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیر آب، ایمرجنسی نافذ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز

ملتان (آئی پی ایس) پنجاب کے شہر جلال پور پیروالا میں مقامی بند ٹوٹنے کے بعد شدید سیلاب کی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے۔ دریا چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنے سے جلالپور پیروالا سمیت ملحقہ علاقوں میں متعدد بستیاں زیر آب آگئیں۔

تفصیلات کے مطابق پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث شہریوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں کی چھتوں پر پناہ لے لی۔ حکام کے مطابق، پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہر کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دریائے چناب کے ہیڈ پنجند اور ہیڈ ترموں پر پانی کی آمد اور اخراج کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہیڈ ترموں پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک ہے۔

حکام نے دریائے چناب کے قریب مقامی بندوں میں شگاف پڑنے کی تصدیق کی ہے، جس سے جلالپور پیروالا سمیت کئی دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

سیلاب کے باعث جلالپور پیروالا میں موضع شاہ رسول اور بیٹ واہی کے زمیندار بند ٹوٹ گئے، جس سے پانی بہادر پور تک پہنچ گیا۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو فوری طور پر نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اس وقت 5 ڈرون اور 50 کشتیاں متاثرہ افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے روانہ کی گئی ہیں، جبکہ انتظامیہ شہری بندوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

جھنگ میں دریائے چناب کے دوسرے ریلے سے 300 سے زائد دیہات سیلاب کی زد میں ہیں، جس کے نتیجے میں 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

مظفر گڑھ میں عظمت پور کے علاقے میں بھی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں، اور 7 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔

دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، اور سیلاب کا پانی بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر بستیوں میں داخل ہوگیا ہے۔

اس وقت سیلاب نے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ شہریوں کو مزید بارشوں اور سیلاب کی ممکنہ شدت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتین ملکی سیریز، فائنل میں پاکستان کا افغانستان کو جیت کیلئے 142رنز کا ہدف تین ملکی سیریز، فائنل میں پاکستان کا افغانستان کو جیت کیلئے 142رنز کا ہدف سندھ میں متوقع شدید بارشوں کے پیش نظر تمام ادارے تیار رہیں، صدر مملکت کی ہدایت نوازشریف کو پٹھوں میں درد کا سامنا ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں طبی معائنہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں رواں سال کے دوسرے مکمل چاند گرہن کا آغاز مون سون سیزن میں اب تک 910افراد جاں بحق اور 1044زخمی ہوئے، این ڈی ایم اے وزیراعلی گنڈا پور کا بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پشاور میں جلسے کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جلالپور پیروالا بستیاں زیر آب پیروالا میں بند ٹوٹنے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ