دریائے سندھ میں طغیانی کے بعد گھوٹکی میں درجنوں دیہات ڈوب گئے، سیلاب متاثرین کے علاج کے لیے مختلف مقامات پر میڈیکل اور ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے، سیلابی صورتحال کے باعث سکھر کے کچے میں بھی درجنوں دیہات زیر آب آچکے ہیں، متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، گڈو بیراج پر پانی کے دباؤ میں کمی آئی ہے تاہم سکھر بیراج پر بہاؤ مستحکم ہے، سندھ میں سیلاب کچے کے درجنوں دیہات میں داخل ہوگیا، مکانات، فصلیں اور دیگر املاک پانی کی نذر ہوگئیں، متاثرہ علاقوں سے لوگوں اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا آپریشن جاری ہے، پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) کے صبح 9 بجے تک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے جو 5 لاکھ 80 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سکھر بیراج پر پانی کا بہاؤ مستحکم رہا جو لگ بھگ 5 لاکھ 18 ہزار کیوسک کے قریب ہے، کسی مقام پر ’انتہائی اونچے درجے‘ کے سیلاب کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب کشمور میں گڈو بیراج پر سیلابی صورتحال کے پیش نظر 2 روز سے متعدد دیہات ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ متاثرین بے بسی کی تصویر بن گئے۔ کندھ کوٹ میں کچے کا علاقہ مکمل زیر آب آگیا اور رہائشیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ مویشیوں کا چارہ بھی ختم ہوگیا۔ دریائے سندھ میں طغیانی کے بعد گھوٹکی میں درجنوں دیہات ڈوب گئے، سیلاب متاثرین کے علاج کے لیے مختلف مقامات پر میڈیکل اور ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے، سیلابی صورتحال کے باعث سکھر کے کچے میں بھی درجنوں دیہات زیر آب آچکے ہیں، متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی جاری ہے۔ ادھر رونتی اور قادر پور کے کچے کے دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوگیا جبکہ سیہون اور دادو میں سیلاب نےکچے کےکئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیلابی صورتحال بیراج پر پانی درجنوں دیہات گڈو بیراج پر میں سیلاب

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا