بارشوں و سیلاب کی تباہ کاریاں، کپاس کی فصل کو شدید خطرات لاحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کراچی:
ٹیکسٹائل برآمدات میں مطلوبہ اضافے کا رحجان سامنے نہ آنے، بارشوں و سیلاب کی تباہ کاریوں سے کاروباری حلقوں میں اضطراب کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کی قیمتوں میں کمی کا رحجان غالب ہے جس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ ستمبر کے اختتام تک بارشوں اور سیلاب بارے صورتحال واضح ہونے کی صورت میں ہی پاکستان میں کاٹن سیکٹر مکمل فعال ہوسکے گا۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان میں کپاس کی فصل اس وقت سخت مشکلات کا شکار ہے۔
پنجاب میں کپاس کی سب سے زیادہ پیداوار کے حامل ضلع بہاولنگر میں کپاس کی فصل 50فیصد تک متاثر ہوچکی ہے اور اب پنجاب و سندھ کے تمام بڑے کاٹن زونز جن میں ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، گھوٹکی، خیرپور میرس، نواب شاہ، سانگھڑ، میر پور خاص، حیدر آباد اور عمر کوٹ شامل ہیں۔
یہ علاقے بھی کپاس کی فصل سیلاب اور بارشوں کی لپیٹ میں ہیں، متعدد کاٹن زونز میں آج (پیر) سے تیز بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے باعث پاکستان میں کاٹن ایئر 2025۔26 کے دوران کپاس کی فصل کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ بارشوں اور سیلاب کے باعث کپاس کی آمد میں کمی سے متعدد جننگ فیکٹریوں اور آئل ملز بھی غیر فعال ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ کپاس کی تمام اقسام پر وائرس کے ابتدائی حملوں کی اطلاعات بھی زیرگردش ہیں جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپاس کی فصل کے باعث
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔