پاکستان کے بڑے کاٹن زونز بارشوں اور سیلاب سے متاثر
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کراچی:
ملک میں پہلی بار پاکستان کے تمام بڑے کاٹن زونز بیک وقت بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئی، ابتدائی جائزے کے مطابق بہاولنگر میں کپاس کی فصل سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، لیکن دیگر علاقوں میں کپاس کی فصل کو تاحال قابل ذکر نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
لیکن آج سے شروع ہونیوالا ہفتہ ملکی معیشت میں اہمیت کاحامل ہے، رواں ہفتے جنوبی پنجاب سے سندھ میں داخل ہونیوالا سیلاب کا بڑاریلا سندھ کے بعض اضلاع میں جاری بارشوں جنوبی پنجاب اور سندھ میں کپاس اور دیگر فصلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرینگی۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ بھارتی آبی جارحیت اور غیر متوقع بارشوں کے سبب پاکستان کو ملکی تاریخ کے سب بڑے بحران کا سامنا ہے، تاہم اس بات کا فیصلہ کہ ان بارشوں سے فصلوں اور خاص طور پر کپاس کی فصل کوکتنا نقصان پہنچتا ہے اس بات کافیصلہ ستمبر کی آخر تک ہی ممکن ہوگا۔
انہوں نے بتایاکہ بارشوں اور سیلاب کے سبب آنیوالی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب بیشترکاٹن زونز میں کپاس کی تقریباً تمام اقسام پر وائرس کامعمولی حملہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے تاہم توقع ہے کہ ایسی فصل پر یوریاکھاد یا بوران وغیرہ کے اسپرے سے وائرس کا یہ ابتدائی حملہ بہتر ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نائب وزیراعظم اسحق ڈارکی صدارت میں کپاس کی بحالی کیلیے اجلاس منعقدکیاگیا، جس میں بیشتر اسٹیک ہولڈرزکے علاوہ چار وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کپاس کی بحالی کیلیے مختلف تجاویز کاجائزہ لیاگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں کپاس کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔