ملتان: جلال پور پیروالہ میں بند ٹوٹنے سے پانی نے بستیوں کا رُخ کردیا، امدادی سرگرمیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پنجاب اور سندھ میں دریاؤں میں بلند سطح کے پانی نے تباہی مچا دی ہے۔ ملتان کے جلال پور پیروالا میں مقامی بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں ڈوب گئیں اور مکین گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
ضلعی انتظامیہ نے جلال پور پیروالا اور شجاع آباد میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے شہر خالی کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ میں ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ادارے الرٹ رہیں، صدر مملکت آصف زرداری کی ہدایت
دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک جبکہ ہیڈ تریموں پر بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، جسے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ بلوکی پر بہاؤ ایک لاکھ 39 ہزار اور ہیڈ سدھنائی پر ایک لاکھ 23 ہزار کیوسک تک جا پہنچا۔
جھنگ میں دریائے چناب کا دوسرا ریلا داخل ہونے سے 300 سے زیادہ دیہات متاثر اور تقریباً 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ مظفرگڑھ کے علاقے عظمت پور میں بھی بند ٹوٹنے سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
ادھر بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب داخل ہوچکا ہے۔ پانی ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر بستیوں میں داخل ہوگیا۔ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر اونچے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چناب و ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، پنجاب میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری
پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد سیلابی ریلے سندھ کی جانب بڑھ گئے ہیں۔ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔ راجن پور میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے تیزی سے زیر آب آرہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: درجے کا سیلاب
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔