امریکا کے پاکستان میں اہم معدنیات پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
یوایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) نے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے قائم مقام نائب چیف آف مشن زیک ہارکن رائیڈر بھی اس موقع پر یو ایس ایس ایم کے وفد کے ہمراہ تھے۔
مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے حوالہ سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے امریکی مشن پاکستان کی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر نے کہا کہ یہ یادداشت امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے مفید باہمی تعلقات کی مضبوطی کی ایک اور مثال ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور پاکستان میں معدنیات اور تیل و گیس کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
امریکی ریاست میسوری میں واقع یو ایس ایس ایم کریٹیکل منرلز اہم معدنیات کی پیداوار اور دوبارہ استعمال پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جس کو امریکی محکمہ توانائی نے جدید مینوفیکچرنگ اور توانائی کی پیداوار سے متعلق مختلف ٹیکنالوجیز میں کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
مذکورہ نوعیت کے دوطرفہ معاہدوں کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ناظم الاُمور بیکر نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سلامتی اور خوشحالی میں اہم معدنی وسائل کی اہمیت کے پیش نظر ایسے دو طرفہ معاہدوں کی تشکیل کو کلیدی ترجیح دی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے چینی دباؤ سے نکلنے کے لیے میانمار کی نایاب معدنیات پر نظریں گاڑھ لیں
ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں معدنیات اور کان کنی کے اہم شعبے میں امریکی کمپنیوں اور ان کے ہم منصبوں کے درمیان مستقبل میں ہونے والے معاہدوں کے لیے پُرامید ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف ڈبلیو او فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن معدنیات وزیراعظم ہاؤس یو ایس ایس ایم یوایس اسٹریٹجک میٹلز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ڈبلیو او فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن معدنیات وزیراعظم ہاؤس یو ایس ایس ایم یو ایس ایس ایم کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔