پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان نے سری لنکا کیخلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے شیڈول کا اعلان کردیا۔
پی سی بی کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز 11 سے 15 نومبر تک راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔
یہ 2019 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب سری لنکن ٹیم پاکستان میں دو طرفہ ون ڈے سیریز کھیلے گی۔
اس سے قبل 2019 میں کھیلی گئی تین میچوں کی سیریز پاکستان نے 0-2 سے اپنے نام کی تھی جس میں پہلا ون ڈے میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا۔
سری لنکا نے حالیہ طور پر 2023 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جب انہوں نے ایشیا کپ میں لاہور میں افغانستان کے خلاف میچ کھیلا تھا۔
اس کے علاوہ سری لنکا 17 سے 29 نومبر تک پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لے گا۔
علاوہ ازیں پاکستان 12 اکتوبر سے 8 نومبر تک جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز اور چھ وائٹ بال میچز کی میزبانی کرے گا۔
پاکستان ٹیم کے میچز کا مکمل شیڈول (12 اکتوبر تا 29 نومبر):
جنوبی افریقہ کا دورہ پاکستان
12 تا 16 اکتوبر: پہلا ٹیسٹ، قذافی اسٹیڈیم لاہور
20 تا 24 اکتوبر: دوسرا ٹیسٹ، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
28 اکتوبر: پہلا ٹی ٹوئنٹی، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
31 اکتوبر: دوسرا ٹی ٹوئنٹی، قذافی اسٹیڈیم لاہور
1 نومبر: تیسرا ٹی ٹوئنٹی، قذافی اسٹیڈیم لاہور
4 نومبر: پہلا ون ڈے، اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد
6 نومبر: دوسرا ون ڈے، اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد
8 نومبر: تیسرا ون ڈے، اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد
سری لنکا کا دورہ پاکستان
11 نومبر: پہلا ون ڈے، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
13 نومبر: دوسرا ون ڈے، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
15 نومبر: تیسرا ون ڈے، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ (پاکستان، افغانستان، سری لنکا)
17 نومبر: پاکستان بمقابلہ افغانستان، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
19 نومبر: سری لنکا بمقابلہ افغانستان، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
22 نومبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا، قذافی اسٹیڈیم لاہور
23 نومبر: پاکستان بمقابلہ افغانستان، قذافی اسٹیڈیم لاہور
25 نومبر: سری لنکا بمقابلہ افغانستان، قذافی اسٹیڈیم لاہور
27 نومبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا، قذافی اسٹیڈیم لاہور
29 نومبر: فائنل، قذافی اسٹیڈیم لاہور
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم قذافی اسٹیڈیم لاہور بمقابلہ افغانستان پاکستان بمقابلہ ٹی ٹوئنٹی سری لنکا
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز