کراچی؛ بارش کا سسٹم ڈیپ ڈپریشن سے ڈپریشن میں تبدیل ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)مون سون کا حالیہ سسٹم جس نے کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، شدت میں کچھ کمی کے بعد ڈیپ ڈپریشن سے ڈپریشن میں تبدیل ہوگیا ہے، تاہم محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ اب بھی طاقتور موسمی نظام ہے اور آج شہر قائد میں دوپہر کے بعد تیز اور موسلا دھار بارش کے کئی اسپیل برسا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم کے مطابق یہ سسٹم اس وقت حیدرآباد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ تھرپارکر کے علاقے ڈیپلو میں سب سے زیادہ 108 ملی میٹر بارش ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ سسٹم مزید مغرب کی سمت حرکت کرتے ہوئے 11 ستمبر تک بلوچستان کے ساحلی علاقوں تک پہنچ کر ختم ہوگا۔
کراچی میں آج شدید بارش کے 4 سے 6 اسپیل متوقع ہیں جن میں بعض مقامات پر بارش 100 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی موسم کا نظام بھارت کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ہے اور اس کے پیچیدہ راستے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بارش کی شدت بھی مختلف رہ سکتی ہے۔
شدید بارش کے پیش نظر اربن فلڈنگ کے خطرے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے نشیبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ برساتی نالوں اور ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ روز ملیر ندی میں طویل عرصے بعد سیلابی کیفیت پیدا ہوئی جس سے قریبی آبادیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
موسم کی خرابی کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے آج کے تمام امتحانات ملتوی کرنے اور ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرتے ہوئے آن لائن کلاسز لینے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ طلبہ اور اسٹاف کے تحفظ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
شہر میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے۔ نارتھ کراچی، اورنگی ٹاؤن، کورنگی، لیاری اور صدر کے نشیبی حصوں میں نکاسی آب کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شہری انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور ننگی تاروں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو ہیلپ لائنز پر رابطہ کریں۔
یہ غیر معمولی موسمی سسٹم آنے والے دو روز تک شہر میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھروں میں رہنا بہتر ہوگا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
ملک بھر میں مون سون کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔
پیش گوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
Hours of torrential rain have triggered severe flooding in Lahore, submerging thousands of homes and affecting millions in Pakistan’s second-largest city. The extreme monsoon weather has caused widespread damage, according to emergency services. Residents say it is the worst… pic.twitter.com/IYCbDSEg9Y
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 22, 2026
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر میں سیلابی ریلوں سے 6 افراد جاں بحق، ریسکیو 1122 کا بڑا آپریشن مکمل
ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ڈی ایم اے بارش پاکستان سیلاب محکمہ موسمیات