قطر پر حملے کے بعد امارات کا سخت ردعمل، اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے قطر میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے بعد جمعہ کو اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی نشریاتی ادارے ’’کان‘‘ نے رپورٹ کیا کہ اماراتی حکومت نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف یہ قدم اٹھایا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے قریبی اقتصادی اور دفاعی تعلقات میں تناؤ کی واضح علامت ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے قطر کو وارننگ دی تھی کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو ملک بدر کرے یا عدالت میں پیش کرے، ورنہ اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔
امارات نے نیتن یاہو کے بیان کو ’’جارحانہ‘‘ قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں تاکہ اسرائیلی حملے کے حوالے سے مشترکہ موقف اختیار کیا جا سکے۔
قطر اس اتوار اور پیر کو ایک ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے اور خطے کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات نے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ ’’ابراہم معاہدے‘‘ کے تحت تعلقات قائم کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قریبی اقتصادی، تجارتی اور دفاعی روابط قائم ہوئے تھے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پر اسرائیلی حملے حملے کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔