Express News:
2026-06-03@02:05:39 GMT

کوچۂ سخن

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

غزل
دام میں حسنِ جنوں خیز کے آئے ہوئے لوگ
مسکراتے رہیں اشکوں میں نہائے ہوئے لوگ
ہے تری دید کا اعجاز کہ خوش رہتے ہیں
تجھ سے نسبت کے عذابوں میں سمائے ہوئے لوگ
ایک اُمیدِ فسوں خیز کا دامن تھامے
متمکن ہیں ترے کوچے میں آئے ہوئے لوگ
تجھ کو برگشتہ نہ کر دے کہیں یہ ایک خیال
کیوں کڑی دھوپ میں دیوار کے سائے ہوئے لوگ
جن کو واجب تھا سرِ عرش خدا! سجدۂ نور
آج معتوب ہیں وہ تیرے بنائے ہوئے لوگ
خود ہی لوٹ آئیں گے اک ٹوٹے تعلق کی طرف
عادلؔ انجانی مسافت کے ستائے ہوئے لوگ
(عزیز عادل۔ مردان)

غزل
مشکل ہے وقت اور کوئی آسرا نہیں
تیرے علاوہ کوئی مجھے جانتا نہیں
اے عشق آئنے میں ذرا سامنے تو آ
میں نے کہا ہے اور کسی نے سنا نہیں
حیرت ہے گفتگو سے طبیعت بدل گئی
حیرت ہے میرے ساتھ کوئی بولتا نہیں
اندر کے شور نے مرا جینا کیا نڈھال 
باہر کے شور میں تو کوئی چیختا نہیں
میں مبتلائے عشق ہوں زخموں سے چور ہوں
تیرے علاوہ درد سے ملنی شفا نہیں
حالاں کہ کاٹ دی مری گردن مگر ندیمؔ
اس کو اثر ذرا بھی مری جاں ہوا نہیں
(ندیم ملک ۔کنجروڑ ،نارووال)

غزل
کسی جنوں کے ہرائے کو کون چھوڑتا ہے
جنابِ دل کے ستائے کو، کون چھوڑتا ہے
میں تیری سمت جو لپکا، لپکنا بنتا تھا
کہ تپتی دھوپ میں سائے کو کون چھوڑتا ہے
وہ وقت ہو کہ مقدر، زمانہ ہو کہ فلک
تری نظر کے گرائے کو کون چھوڑتا ہے
میں ایک آنکھ سے نکلا ہوں کس طرح، مت پوچھ
خوشی سے اپنی سرائے کو کون چھوڑتا ہے
تجھے کہا نہیں کچھ تو اسے شرافت جان
وگرنہ ہاتھ میں آئے کو کون چھوڑتا ہے 
(زبیرحمزہ۔ قلعہ دیدار سنگھ)

غزل
ذرا غور کر مری بات پر 
مجھے دکھ ہُوا ترے ساتھ پر
نہ خوشی پہ پہنچا میں بے وطن
نہ پہنچ سکا میں وفات پر
وہی چاند ہے،وہی چاندنی 
وہی جھیل ہے، وہی رات، پر
ہوا بدگماںمری ذات سے
جسے تھا یقیں مری بات پر
تجھے کیا خبر مرے چارہ گر 
جو گزر رہی ہے حیات پر
میں بھی خوش رہوں گا ترے بغیر
تو بھی ہاتھ رکھ مرے ہاتھ پر
(فیصل محمود۔رحیم یار خان)

غزل
تاخیر سے ہی درد میں آرام تو آیا
ساقی نہ سہی بادۂ گلفام تو آیا
صد شکر مرے شوق کا انعام تو آیا
وہ گیسوئے خمدار لبِ بام تو آیا 
رندوں کی تسلی کے لئے یہ بھی بہت ہے
میخانے میں کوئی ترا ہم نام تو آیا
ناراض نہیں اس سے ہوا کرتے کبھی بھی
جو صبح کو  بھولا پہ سرِ شام تو آیا
تاخیر سے آیا ہے مگر پھر بھی خوشی ہے 
اس گل کی ہتھیلی پہ مرا نام تو آیا
 پھر دیکھ کے میخانے میں ہم کو وہ کہے ہے 
صیاد کوئی آج تہِ دام تو آیا
غزلوں سے مری جان ملی تجھ کو تسلی
مشتاق ؔترے آج کسی کام تو آیا
(ثقلین مشتاق ۔ جمشید پور، جھارکھنڈ ،انڈیا)

غزل
دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی کرکے
میں آگیا ہوں اندھیرے کو روشنی کرکے
بڑا فریب ملا مجھ کو روشنی کی قسم
تمہاری آنکھ گلابی سے کاسنی کرکے
ہٹا دیا ہے مجھے اس نے میرے منصب سے
میں سوچتا ہی رہا جس کو آخری کرکے
ابھی نہ روک مجھے اس سفر میں رہنے دے
ملوں گا تجھ سے مرے یار زندگی کرکے
حیات اپنی گزاری ہے وہم و حسرت میں
کسی کے نام پہ پوشیدہ شاعری کرکے
مرا بھی سلسلہ افلاک سے ہی ملتا تھا
تری گرفت میں آیا ہوں آدمی کرکے
یہ سانحہ ہے کوئی سانس ہی نہیں لیتا
ہوا کے ہاتھ بھی خالی ہیں تازگی کرکے
میں فیضیؔ میر کے مسلک سے تھا سو میں نے بھی
گنوا دی عزت سادات عاشقی کرکے
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)

’’سلیقہ‘‘
سچ تو یہ ہے ہمیں ناشاد کیا ہے تم نے
ساتھ رکھ کر ہمیں برباد کیا ہے تم نے
اس سے بہتر تھا ہمیں خود سے جدا کر دیتے
عشق کی قید سے تم ہم کو رہا کر دیتے
خیر اس بات کا اب دکھ بھی نہیں ہے ہم کو 
خون گندا ہو تو اک روز دکھاتا ہے اثر 
ہم کو معلوم تھا تم ایسا کرو گے اک دن
یہ جو دنیا ہے مکافاتِ عمل ہے یعنی 
جو بھی کچھ تم نے کیا تم وہ بھرو گے اک دن 
ہم نے کوشش تو بہت کی کہ بھلا دیں تم کو 
پر بھلانے کو کبھی دل نہیں راضی ہوتا
اِس کو لگتا ہے تم آؤ گے پلٹ کر اک دن 
اِس نے اب تک نہیں اُمید کا دامن چھوڑا
ہم تو وہ تھے جنہیں ہنسنے سے نہ فرصت تھی کبھی
ہم تو وہ شوخ طبیعت تھے کہ اللہ اللہ
مر گئی ہم میں وہ جو شوخ طبیعت تھی کبھی
شرم آتی ہے ہمیں تم سے محبت تھی کبھی
جب بھی پوچھے ترے بارے میں کوئی ہم سے سوال 
ہم کو ہر بات پہ آ جاتا ہے رونے کا خیال
دل حویلی بھی وہ پہلے کی طرح شاد نہیں
اب تو ہنسنے کا سلیقہ بھی ہمیں یاد نہیں
(راشد خان عاشر۔ ڈیرہ غازی خان)

غزل
ہے آنکھوں میں شب بیداری برسوں سے 
سلگ رہی ہے اک چنگاری برسوں سے 
جن کی کی ہے تابعداری برسوں سے 
برت رہے ہیں جانب داری برسوں سے 
کاش نکالے آ کر ہجر کے ملبے سے 
دبی ہوئی ہے لاش ہماری برسوں سے 
ہر رشتے میں غربت آڑے آئی ہے 
مجھ کو ہے اک یہ دشواری برسوں سے 
بچپن کے کچھ خواب سنبھال کے رکھے ہیں 
بند پڑی ہے اک الماری برسوں سے 
مجھ کو امن کے دیپ جلاتے رہنا ہے 
مجھ پر ہے یہ ذمے داری برسوں سے 
(امن علی امن۔ پاکپتن شریف)

غزل 
گئے وقتوں کا کوئی استعارہ ہو رہا ہے
جو روشن تھا دلوں میں بے سہارا ہو رہا ہے
کہاں کس آئینے میں جگمگائے گی وہ صورت 
نظر بھر دیکھ لینے کا اشارہ ہو رہا ہے 
عصا تھامی ہوئی دنیا زمیں پر منحصر ہے 
خلا  میں  ٹوٹتا  منظر  ستارہ  ہو  رہا  ہے 
گرایا جائے اْس میں آسماں کا میٹھا پانی 
کنواں جو وقت کے ہاتھوں سے کھارا ہو رہا ہے 
وہ گم گشتہ نظر سے ماورا کو یہ خبر ہو  
نظر آئے بھی وہ جس کا نظارہ ہو رہا ہے 
زمانہ چاہتا ہوگا مگر ہم نے نہ چاہا 
بھری دنیا سے جو اپنا کنارا ہو رہا ہے 
(زاہد خان۔ ڈیرہ اسماعیل خان ) 

غزل
خواب در خواب مصیبت سے نکلنا ہے مجھے
یعنی خود اپنی شکایت سے نکلنا ہے مجھے
اتنا آساں تو نہیں اس سے  نکلنا لیکن
جس طرح بھی ہو محبت سے نکلنا ہے مجھے
یوں مقفّل ہوا بیٹھا ہوں کسی کمرے میں 
جیسے کمرے کی اجازت سے نکلنا  ہے مجھے
چھوڑ آیا ہوں ترے شہر میں آنکھیں اپنی
اب کسی اور اذیت سے نکلنا ہے مجھے
بے وجہ دشمنوں پہ ٹوٹ رہا ہوں شافی
اور اپنوں کی حراست سے نکلنا ہے مجھے
(بلال شافی۔ جڑانوالہ)

غزل
مری حالت جو ابتر ہو رہی ہے
مجھے لگتا ہے بہتر ہو رہی ہے
مری عادت ہے غم میں مسکرانا
یہ عادت اب مقدر ہو رہی ہے
جو دیکھا کل ذرا سی موج تھی وہ
ہوں حیراں کہ سمندر ہو رہی ہے
مری تکلیف میں ہے اب افاقہ
دوا اس کی مؤثر ہو رہی ہے
خوشی اپنی بتاؤں کس طرح میں
فدا مجھ پر ستم گر ہو رہی ہے
رہا نہ فرق اپنے غیر کا کچھ
حقیقت یوں اجاگر ہو رہی ہے
یہ کس کی آج آمد ہے کہ ساگرؔ
فضا اتنی معطر ہو رہی ہے
(رجب علی ساگر ۔ڈیرہ اسماعیل خان،پہاڑ پور)

غزل
غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا
دفعتاََ آگ سی لہرائی تھی آگے میں تھا
اسی ٹیبل پہ جہاں بیٹھ کے کھاتے تھے کبھی
تو کسی اور کے ساتھ آئی تھی آگے میں تھا
رات کھڑکی سے کوئی چیز گری کمرے میں 
موم بتی سی وہ تھرائی تھی آگے میں تھا
زندگی میں تجھے رستے سے اٹھا لایا ہوں
تو کسی اور سے ٹکرائی تھی آگے میں تھا
پیشرو کوئی سرِ راہِ نجف تھا ہی نہیں 
پیچھے پیچھے مری مولائی تھی آگے میں تھا
(عقیل عباس۔ منڈی بہاؤالدین)

سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
 روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ئے ہوئے لوگ ہو رہی ہے ہو رہا ہے نہیں ا

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان