10پاکستانی نمائش کنندگان کی انٹرسٹائل شنگھائی ایکسپومیں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان نے انٹرسٹائل شنگھائی ایپیرل فیبرکس اور یارن ایکسپو آٹم 2025 میں ماضی کی طرح بہترین روایات کے ساتھ بین الاقوامی خریداروں اور صنعت کار رہنماؤں کی توجہ حاصل کرلی۔ انٹرسٹائل شنگھائی ایپیرل فیبرکس اور یارن ایکسپو آٹم 2025 میں پاکستان سے 10 نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ ان میں سے 7 نمائش کنندگان نے انٹرٹیکسٹائل اور3 نمائش کنندگان نے یارن ایکسپو میں اپنی مصنوعات پیش کیں۔ انٹرٹیکسٹائل شنگھائی ایپیرل فیبرکس میں 26 ممالک اور خطوں کے تقریباً 3,700 ملکی و غیر ملکی نمائش کنندگان شریک ہوئے ، جبکہ یارن ایکسپو میں 16 ممالک کے تقریباً 580 نمائش کنندگان نے شرکت کی جبکہ اس ایڈیشن میں ملکی صنعت کو نمائش کنندگان اور وزیٹرز کی بین الاقوامی شمولیت سے نمایاں فائدہ حاصل ہوا۔اس حوالے سے ڈپٹی منیجرمارکیٹنگ ، ڈائمنڈ فیبرکس لمیٹڈ محمد عبداللہ تنویر نے کہا کہ ہم نے کئی سنجیدہ بین الاقوامی خریداروں سے ملاقات کی۔ اانٹرٹیکسٹائل شنگھائی بلاشبہ ہماری عالمی رسائی کو بڑھانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے۔ یہ نمائش درست خریداروں کو متوجہ کراتی ہے اور اپنی مصنوعات پیش کرنے کا شاندار موقع فراہم کرتی ہے۔ ڈائر یکٹر محمود ٹیکسٹائل ملزخواجہ محمد مظفر اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ نمائش ہمیشہ ہمارے لیے شاندار اور قیمتی رہی ہے، اور ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم ایک دہائی سے باقاعدہ نمائش کنندہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نمائش کنندگان نے یارن ایکسپو
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔