کینسر کے مریضوں کا جلد اور مفت علاج میرا عزم ہے، مریم نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میو اسپتال لاہور میں پاکستان کے پہلے سرکاری کو ابلیشن سینٹر کا افتتاح کیا اور کہا کہ جدید کو ابلیشن طریقہ کار کے ذریعے کینسر کے مریضوں کا جلد اور مفت علاج میرا عزم ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کو ابلیشن ٹیکنالوجی دورہ چین کے دوران دیکھی گئی اور چینی حکام سے مکمل معلومات اور بریفنگ حاصل کی گئی۔ اس دوران ہواوے کی کمپنی کے ساتھ ہی ایم او یو بھی سائن کیا گیا تاکہ یہ جدید ٹیکنالوجی پنجاب میں متعارف کرائی جا سکے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ابتدائی طور پر 5 مریضوں کا کو ابلیشن کے ذریعے کامیاب علاج کیا جا چکا ہے، جس میں رانا محمد اصغر کے پیچیدہ جگر کے کینسر اور محمد اکرم کے پھیپھڑوں کے ٹیومر بھی شامل ہیں۔ 60 منٹ کے آپریشن کے بعد مریض چند گھنٹوں میں چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور اس طریقہ علاج سے صحت مند سیلز متاثر نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں: پنجاب: کینسر کے علاج کی نئی تاریخ، پاکستان کے پہلے کو ابلیشن سینٹر کا افتتاح
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مزید 5 مشینیں پنجاب کے دیگر شہروں، نشتر ملتان، راولپنڈی اور 3 نواز شریف کینسر اسپتالوں میں نصب کی جائیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ کینسر کے علاج کے لیے تمام سہولتیں اور وسائل مہیا کیے جائیں گے اور ڈاکٹروں و اسٹاف کو جدید تربیت دی جائے گی تاکہ پنجاب کے عوام کے ساتھ دیگر صوبوں کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت میرا عزم ہے اور پاکستان بالخصوص پنجاب کی عوام کی خدمت کے موقع پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کو ابلیشن سینٹر کینسر مریم نواز شریف مفت علاج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کو ابلیشن سینٹر کینسر مریم نواز شریف مفت علاج مریم نواز شریف کو ابلیشن کینسر کے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔