پنجاب: کینسر کے علاج کی نئی تاریخ، پاکستان کے پہلے کو ابلیشن سینٹر کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے میو اسپتال میں پاکستان کے پہلے سرکاری کو-ابلیشن سنٹر کا افتتاح کر دیا۔ پنجاب ساؤتھ ایشیا کا پہلا صوبہ ہے جہاں اس جدید ٹیکنالوجی سے کینسر کا علاج ممکن ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: سروائیکل کینسر ویکسین تولیدی صحت کے لیے کتنی محفوظ، پاکستان میں لوگ بائیکاٹ کیوں کررہے ہیں؟
کو-ابلیشن کے ذریعے جگر، پھیپھڑوں اور بریسٹ کینسر کا علاج کیا جا رہا ہے، جس میں کینسر سیل کو منفی 198 ڈگری پر فریز اور 83 ڈگری پر ہیٹ اپ کرکے ختم کیا جاتا ہے۔
Punjab now begins the most advanced cancer treatment!
The first-ever Co-ablation Centre established at Mayo Hospital, to be inaugurated by Chief Minister Maryam Nawaz Sharif.
— PMLN (@pmln_org) September 18, 2025
وزیراعلیٰ نے مزید 5 مشینیں منگوانے اور ڈاکٹرز کی خصوصی ٹریننگ کا حکم بھی دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب کو ابلیشن سینٹر کینسر مریم نواز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کو ابلیشن سینٹر کینسر مریم نواز شریف کو ابلیشن
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔