وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا شرجیل میمن کے بیان پرسخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے کبھی صوبائیت کارڈ، نہروں کا کارڈ یا ڈیم کارڈ نہیں کھیلا۔
اپنے ایک بیان عظمیٰ بخاری نےکہا کہ مسلم لیگ نواز ایک قومی جماعت ہے جو ہمیشہ قومی سوچ اور قومی ترقی کو ترجیح دیتی ہے،جس ٹیم کو آپ ان ایکسپرینس ٹیم کہہ رہے ہیں،اسی ٹیم نے صرف ڈیڑھ سال میں پنجاب میں اسی منصوبے مکمل کر کے ترقی کا انقلاب برپا کیا ہے۔
وزیراطلاعات پنجاب نےپیپلزپارٹی پرتنقیدکرتے ہوئےکہا کہ آپ لوگوں نے سترہ سالوں میں کراچی اور سندھ کا جوحال کیا،اس پر آج بھی عوام روتے ہیں،سندھ کے پچھلے سیلاب میں بیرونی امداد ملنے کےباوجود آج تک وہاں تباہی کے آثار موجود ہیں۔
عظمیٰ بخاری نےمزیدکہاکہ پنجاب کےحالیہ سیلاب میں پیپلزپارٹی نے جو کردار ادا کیا اسے پنجاب کبھی نہیں بھولےگا،بری بات یہ ہے کہ آپ اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی جھٹلا رہے ہیں،جنہوں نے سیلاب کے دوران مریم نواز کی تعریف کی تھی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔