بھارت اکتوبر میں پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اکتوبر میں پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی قیادت اندرونی دباؤ اور انتخابی سیاست سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحدی محاذ گرم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت غیر معمولی چوکسی اور سفارتی تیاری کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری کو بروقت حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی میں بھارت نے کئی بار دہشت گردی کے واقعات کو جواز بنا کر خطے میں کشیدگی بڑھائی، اسی طرز کا کوئی نیا ڈرامہ رچایا جا سکتا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو سفارتی سطح پر اجاگر کرنے سے عالمی رائے عامہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو مسترد کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔