ملتان ( نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایت پر جلال پور پیر والا شہر کی سیلاب سے حفاظت کے لئے ٹیکنیکل کمیٹی کامسلسل دوسرے روز اجلاس ہوا جس میں موٹروے میں شگاف نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وصوبائی وزرا اورمختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔

ٹیکنیکل کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیلابی پانی کے بہائو اور شدت میں کمی آرہی ہے، جلال پور پیر والا ابھی محفوظ ہے، جلال پور پیر والا میں جمع سیلابی پانی کی سطح میں بھی کمی آرہی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب کی سربراہی میں ٹیکنیکل کمیٹی نے جلال پور پیر والا شہر اور موٹر وے سائیٹ کا معائنہ کیا، دمر والا ،کھروڑہ فاضل، مڈوالہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا۔

اجلاس میں چئیرمین این ایچ اے کے علاوہ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، زراعت کے حکام کے علاوہ کمشنر اور ڈی سی ملتان بھی شریک تھے۔

ٹیکنیکل کمیٹی نے سیلاب متاثرین کو ٹینٹ، صاف پانی، خوراک اور مویشیوں کے لئے ونڈہ کی فراہمی کا جائزہ لیا، ریسکیو وریلیف آپریشن پر اب تک کی پیش رفت پر رپورٹ پیش کی گئی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف تمام صورتحال کی ذاتی طورپر نگرانی کررہی ہیں، شہر اور شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اب تک کی صورتحال بہتر ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جلال پور پیر والا

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا